خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 734
خطبات طاہر جلد 13 734 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء أَصْحِبَ الرَّقِيمِ کا ایک مطلب ہے تحریروں والے لوگ لکھنے والے لوگ۔تو چونکہ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ غاروں سے کچھ تحریریں دریافت ہوں گی۔اس لئے انہوں نے اپنی تفسیروں میں صرف اس حد تک ترجمہ کیا کہ ان کی غاروں پر گویا کچھ کتنے تھے ان پر کچھ لکھا ہوا تھا حالانکہ قرآن کریم ان سب کو اصحب الرقیم فرما رہا ہے۔غاروں میں ان لوگوں نے پناہ لی ہے جنہوں نے کچھ صحیفے ان غاروں میں چھوڑے ہیں یا وہ صحیفے لے کر ان غاروں میں داخل ہوئے ہیں اور آج کے زمانے میں یہ حیرت انگیز دریافت ہوئی ہے وادی قمران میں ایک نہیں، بیسیوں ایسی غاریں ہیں جہاں سے یہ صحیفے دریافت ہو چکے ہیں اور ہورہے ہیں اور بہت سے سائنس دان جو پرانے صحیفوں کو پڑھنے کے ماہر ہیں وہ ان تحریروں کو پڑھ کر مختلف اندازے لگارہے ہیں۔لیکن قرآن کے حوالے سے قرآن کی عطا کردہ روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیں احمدی سکالرز کی ضرورت ہے جو وہ زبانیں سیکھیں ، وہ علم سیکھیں جس سے براہ راست ان صحیفوں کا مطالعہ کر سکیں اور محض لوگوں کی رائے زنی کو نشانِ منزل نہ سمجھیں بلکہ منزل کا کھوج خود لگا ئیں کیونکہ بسا اوقات قرآن کی روشنی کے بغیر انسان غلط اور متضاد نتائج نکالنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اور یہی کیفیت ہے جو ان صحیفوں کے تعلق میں آج ہمیں دنیا میں دکھائی دے رہی ہے۔امریکہ میں بھی میں نے اس قسم کی ریسرچ کے لئے ہدایت کی تھی اور امریکہ میں کسی حد تک کام ہوا اور دو مختلف الخیال، دو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے متضاد نتائج نکالنے والے علماء سے انہوں نے رابطے کئے لیکن یہ تحقیق ابھی بہت ہی ابتدائی مراحل میں ہے۔اس لئے اگر چہ میں اس مضمون کو ایک اور رنگ میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں مگر ضمنا میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ شمالی امریکہ کے دونوں ممالک کے نوجوان، خواہ وہ کینیڈا سے تعلق رکھتے ہوں یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہوں ، جن کو بھی اللہ نے علمی ذوق شوق عطا فرمایا ہے وہ اس مضمون پر براہ راست تحقیق کریں۔وہ زبانیں سیکھنا، جن کو وہ پڑھ کر براہ راست استفادہ کر سکیں ایک دقت طلب چیز ہے، اس میں بہت لمبی محنت، مطالعہ اور کئی سالوں کی محنت کی ضرورت ہے۔لیکن ان ماہرین فن سے رابطہ کر کے اصل کتابوں کا کثرت سے جو اس مضمون پر لکھی گئی ہیں ، براہ راست ان کتابوں کا مطالعہ کر کے مختلف الخیال لوگوں سے ، ان مضامین کو خود سمجھ کر ملنے کے بعد، پھر قرآن کریم کی روشنی میں ایک نتیجہ نکالنے کی کوشش جو ہے یہ شروع ہو سکتی ہے اور انگلستان میں جس ٹیم کو میں نے