خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 735

خطبات طاہر جلد 13 735 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء مقرر کیا ہے اس میں کالج کے جانے والے، نوجوان لڑکے بھی ہیں اور لڑکیاں بھی ہیں اور دونوں اللہ کے فضل سے بڑے اخلاص اور محنت کے ساتھ اس پر کام کر رہے ہیں اور ان کے پیش کردہ نتائج سے ہمیں نئی روشنی مل رہی ہے، نئے راستے دکھائی دے رہے ہیں جن کے نتیجے میں میں بہت پر امید ہوں کہ احمد یہ تحقیق تمام دنیا کے لئے روشنی کا موجب بنے گی اور ان کو رستہ دکھانے میں سب سے نمایاں کردار ادا کرے گی کیونکہ قرآن کریم کا وہ بیان جو چودہ سوسال پہلے گزر گیا جبکہ ان چیزوں کا کوئی وجود نہیں تھا اس یقین سے ہر مومن کے دل کو بھر دیتا ہے کہ سوائے اس کے کہ علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ نے حضرت محمد رسول اللہ اللہ کو ان واقعات کی خود خبر دی ہو، عرب کے کسی باشندے سے یہ ناممکن تھا خواہ وہ کتنا بڑا عالم ہوتا کہ ان غاروں کا اس تفصیل سے ذکر کرتا اور پھر اس ذکر میں اَصْحُبَ الرَّقِيْم کے لفظ داخل کر دیتا کہ یہ لوگ صحیفوں والے لوگ ہیں اور یہ ایسا وقت آئے گا کہ جب ان صحیفوں کی دریافت سے دنیا کی آنکھیں کھل جائیں گی۔پس مختلف پہلوؤں سے کچھ اور پہلو بھی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں تحقیق کا موقع مل رہا ہے لیکن اس کے لئے مجھے زیادہ دست و بازو کی ضرورت ہے اور کثرت سے احمدی مخلصین ، روشن دماغ اور تحقیق کا جذبہ رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے ملک میں دستیاب کتابوں کا مطالعہ کریں، اپنے ملک میں موجود سکالرز سے تعلقات بڑھا ئیں اور جو کچھ بھی ان کی تحقیق کا ماحصل ہو وہ مجھے بھجواتے رہیں۔آغاز خلافت پر جو میں نے جماعت کو خطاب کیا تھا اس میں شہد کی مکھیوں کے چھتے کی مثال دی تھی۔میں نے کہا جس ایک خلیفہ کے گرد ساری جماعت اکٹھی ہو جاتی ہے اور جس طرح اس کی تمام تر کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ ہمارا ماحصل ہے اس کا بہترین نچوڑ ہم اپنی ملکہ کو دیں یعنی شہد کی مکھیوں کی یہ کوشش ہوتی ہے۔اس طرح تمام عالم میں میں آغاز ہی سے یہ مشاہدہ کر رہا ہوں کہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے احمدی جب کسی بہت ہی اچھی چیز کو پاتے ہیں، جب کسی اچھے مطلب کو حاصل کرتے ہیں تو ان کو چین نہیں ملتا جب تک مجھے اس کی اطلاع نہ دے لیں اور اپنی خوشی میں یا اس خزانے میں مجھے شامل نہ کرلیں جو علم کا خزانہ اللہ نے ان کو عطا فرمایا ہے۔کوئی اچھی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو مجھے اس سے مطلع کرتے ہیں۔بعض مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں اتنے بڑے مطالعہ کا کیسے وقت مل گیا۔جو خلافت سے پہلے کا زمانہ تھا اللہ نے خود میرے دل میں یہ ذوق و شوق پیدا فرمایا