خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 733 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 733

خطبات طاہر جلد 13 733 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1994ء اس کے کہ مسیح سے پہلے کے زمانے کی باتیں ہوں۔پھر یہ بھی ایک بہت اہم بات ان غاروں سے دریافت ہوئی ہے کہ وہ لوگ خوفزدہ تھے اور کچھ بتانے کی خاطر اپنے تبرکات کو مختلف صورتوں میں محفوظ کرنے کے لئے غاروں میں دفناتے چلے جارہے تھے۔جہاں خود پناہ لیتے تھے وہاں ان تبرکات کو بھی محفوظ کرتے تھے اور ایسا کوئی دور مسیح سے پہلے یہودیت پر نہیں گزرا کہ ان کو اپنے تبرکات چھپانے کے لئے غاروں میں پناہ لینی پڑے۔کوئی عہد نامہ قدیم وہاں سے دریافت نہیں ہوا بلکہ اشارہ جو بھی ذکر ملتے ہیں وہ عیسائیت ہی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔پس قرآن کریم کا یہ بیان کہ اے محمد اعﷺے مخاطب کئے بغیر شروع سے عبد کے نام کی بات ہو رہی ہے، مگر آنحضرت ہی مخاطب ہیں اور پیش نظر ہیں، کہ تو ان لوگوں کے انجام سے جو اپنے دل کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے گہرے غم میں مبتلا ہو گیا ہے ہم تجھے کچھ اچھی خبریں بھی سناتے ہیں جو تیرے دل کو ڈھارس بخشیں گی کیونکہ تو تو حید کا عاشق ہے۔یہی عیسائی لوگ آغاز میں توحید کی خاطر انتہائی قربانی دینے والے لوگ تھے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا قرآن کریم فرماتا ہے تمام دنیا کی زینتوں کو چھوڑ کر وہ غاروں کے بھیانک اندھیروں میں رہنا اپنے لئے زیادہ پسند کرنے لگے کیونکہ ان اندھیروں میں بسر ہوتے ہوئے وہ توحید کی روشنی سے منسلک رہ سکتے تھے اور باہر کی روشنی میں ان کو اندھیرا دکھائی دیتا تھا کیونکہ ہر طرف شرک تھا۔پس اس اشارے کے پیش نظر جو قرآن کریم میں واضح طور پر موجود ہے میں نے ایک احمدی مخلصین نو جوانوں کی ایک ریسرچ ٹیم بنائی ہے کہ وہ ان غاروں سے دریافت ہونے والے تمام صحیفوں کا مطالعہ کرنے کی اہلیت پیدا کریں اور جو کچھ بھی ان پر لکھا گیا ہے ان پر غور کریں اور صحیح نتائج اخذ کریں جو قرآن کی روشنی کے بغیر اخذ ہو نہیں سکتے۔ایک اور اہم بات جو اصحاب کہف کے ذکر میں قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے وہ اَصْحَبَ الرَّقِيمِ فرمایا ہے۔فرمایا ہے آمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ ايْتِنَا عَجَبًا کہ اے محمد کیا تو حیرت میں مبتلا ہے کہ یہ کیسے لوگ تھے جنہوں نے غاروں میں پناہ لی اور وہ اَصْحُبَ الرَّقِیم تھے۔أَصْحُبَ الرَّقِيمِ کا چونکہ کوئی بھی ذکر قرآن کریم کے نزول کے لمبے عرصہ بعد تک بھی غاروں کے تعلق میں معلوم نہیں تھا۔اس لئے مفسرین نے رقیم سے یہ معنی لیا۔رقیم کا ایک معنی ہوتا ہے کتبہ جس پر کچھ لکھا ہو اور