خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 727 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 727

خطبات طاہر جلد 13 727 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء دیا کرتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کے جوابات کا اختلاف پوچھنے والے کے مزاج کے اختلاف کا مظہر ہے اور اسی وجہ سے آنحضور ﷺ کے جواب کا اختلاف آپ کے جواب کا نہیں بلکہ پوچھنے والے کے حال کے اختلاف کا مظہر ہے اور اس موقع پر جب پوچھا گیا، پوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ سب سے اچھا عمل کون سا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کے رستے میں جہاد کرنا۔راوی کہتے ہیں پھر میں نے پوچھا کہ قربانیوں میں کون سی قربانی افضل ہے؟ تو آنحضور نے فرمایا ان جانوروں کی قربانی جو مالک کو زیادہ پسند ہوں اور زیادہ قیمتی ہوں۔کہتے ہیں پھر میں نے عرض کیا کہ اگر ایسا نہ کر سکوں تو پھر۔تو آپ نے فرمایا کسی کام کرنے والے کی مدد کر، یا جواناڑی ہو، جس کو کام نہ آتا ہوا سے کام سکھا دے تا کہ وہ عزت کے ساتھ خود اپنی روزی کما سکے۔پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ان کاموں میں ہیں جیسا کہ آپ نے نصیحت فرمائی ہے اس کا حق ادا نہ کر سکوں تو پھر کیا حکم ہے فرمایا تو پھر یوں کرو کہ لوگوں کو نقصان پہنچانے سے بچ جاؤ اور کسی کو کوئی ضررتم سے نہ پہنچے۔اب یہ حدیث اس بات کی مظہر ہے کہ آنحضرت سے سوال کرنے والے کی بعض کمزوریوں، بعض کوتاہیوں پر نظر رکھ کر اس کو جواب دے رہے تھے اور بالآخر وہ خود بول پڑا کہ یا رسول اللہ یہ ساری نیکیاں ایسی ہیں جن کا میں محتاج تو ہوں مگر مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لئے پھر میرے لئے کیا حکم ہے۔جو یہ نیکی بھی نہ کر سکے ، وہ نیکی بھی نہ کر سکے، وہ بھی نہ کر سکے آخر وہ کیا کرے؟ تو آپ نے فرمایا اتنا تو کرو کہ تمہارا شر کسی کو نہ پہنچے اور بنی نوع انسان تمہارے شر سے محفوظ رہیں۔یہ کم سے کم نیکی ہے جس کی خدا تعالیٰ مومنوں سے اور اللہ کا رسول مومنوں اور مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے۔فرمایا اگر تم یہ کرو گے کہ بنی نوع انسان تمہارے شر سے محفوظ رہیں گے۔تو یہ تمہارے نفس کا تم پر ایک حق ہے جس کا تم صدقہ دے رہے ہو۔یہ لفظ جو عربی میں استعمال ہوئے ہیں اس کے ترجمے عموما ناقص ہو گئے ہیں کیونکہ ایسا ایک انداز بیان ہے جس کو سمجھنا ذرا مشکل ہے۔عربی کے الفاظ یہ ہیں تکف شَرَّكَ عن الناس فانها صدقة منک لفظی ترجمہ ہے تو لوگوں کو اپنے شر سے بچائے رکھے فانها صدقة منك “ یہ تیری طرف سے صدقہ ہوگا۔بظاہر بات ختم ہو گئی مگر ساتھ فرمایا علی نفسک تیرے نفس پر تو نفس پر صدقے سے کیا مراد ہے؟ مراد یہ ہے کہ تیرے نفس پر یہ تیرا حق ہے کہ تو اس کی خاطر یہ صدقے دے ورنہ اگر تیرا شر دوسروں کو پہنچتا رہا تو 66