خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد 13 726 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 ستمبر 1994ء انسان کو قریب تر کر دیا کرتی ہیں۔یہ ایسا قطعی اصول ہے جس میں آپ کہیں رخنہ نہیں پائیں گے۔یہ سچا ہے اور ہمیشہ کارفرمارہا ہے۔اور اس کے ثبوت میں ایک دفعہ پھر میں انبیاء کی تاریخ کو گواہ ٹھہرا کر آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ تمام دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان سب کے انبیاء کی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھیں وہ انبیاء جو با خدا تھے وہ با اخلاق بھی تھے اور ان کی قومیں اسی طرح ان کے خلق کے گیت گاتی ہیں جیسے وہ اپنے رب کے حسن اور اس کی مدح کے گیت گایا کرتے تھے۔پس خدا کا عاشق ہو جانا بنی نوع انسان کا عاشق ہو جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلقات کو درست کر لینا، اس کی مخلوق سے تعلقات کو درست کر لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔پس اپنے تعلقات کی اصلاح کریں اور آنحضرت میے کی نصائح کو اس معاملے میں غور اور سنجیدگی سے پڑھیں اور اپنی زندگی پر اس کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔وقت چونکہ ختم ہو چکا ہے چند ایک منٹ زائد میں آپ سے لیتا ہوں اور آنحضرت کی ایک دو اور معین نصیحتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت مﷺ نے فرمایا۔جب تم میں سے کسی کا نوکر کھانا تیار کر کے لائے تو تم اسے اپنے پاس بٹھا کر نہ بھی کھلا سکو تو کم سے کم ایک دو لقمے تو اسے کھانے کو دے دو کیونکہ اس نے یہ کھانا محنت کر کے تمہارے لئے تیار کیا ہے اس میں اس کا بھی حق ہے۔( بخاری کتاب العتق حدیث نمبر : 2385) پس وہ لوگ جو خدمتوں پر مامور ہوتے ہیں ان کا پورا اجر دے بھی دیں تب بھی وہ نعمتیں جو ان کے ذریعے آپ کو میسر آ رہی ہیں ان پر ان کا حق قائم رہتا ہے اس لئے ان نعمتوں میں ان کو شریک کرنا بھی ایک اعلیٰ اخلاق کا لازمی جزو ہے۔ایک حدیث ہے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ سے یہ صلى الله پوچھا گیا کہ اعمال میں سے سب سے اچھا عمل کون سا ہے؟ آنحضور ﷺ سے جب اس قسم کے سوالات ہوتے تو موقع اور محل کے مطابق سوال کرنے والے کے حال پر نظر رکھتے ہوئے آپ نے ایک جواب دیا ہے اور کہیں کسی ایک چیز کو زیادہ اچھا عمل بیان فرمایا، کہیں کسی اور چیز کو زیادہ اچھا عمل بیان فرمایا اور محدثین بیچارے مشکلوں میں مبتلا۔یہ ان بحثوں میں پڑے رہتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی تضاد ہے کہ نہیں ہے، اختلاف کیوں ہے۔حالانکہ یہ بحث ہی بے تعلق ہے کیونکہ ہر وہ انسان جو سوال کرنے والے کے حال سے باخبر ہو، اس کے مزاج کو پہچانتا ہو اس کا جواب اس کے حال کے مطابق