خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 708 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 708

خطبات طاہر جلد 13 708 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء پاؤں اور سوشہادتوں کا اعزاز حاصل کروں کیونکہ جو لطف مجھے اس شہادت میں آ گیا ہے وہ اپنی جزا آپ تھا اس کی۔میں اور جزا کا تجھ سے کیا مطالبہ کروں۔پس یہی میری جزا ہے جو دائمی کردے تو رسول اللہ ہو نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا اگر میں یہ پہلے لکھ نہ چکا ہوتا کہ جو ایک دفعہ اس دنیا سے رخصت ہو جائے گا دوبارہ اس میں نہیں بھیجا جائے گا تو میں تمہاری یہ تمنا بھی قبول کر لیتا۔(ترمذی کتاب التفسیر تفسیر ال عمران ) یہ بھی نہیں فرمایا کہ یہ تو تم دکھ مانگ رہے ہو کیونکہ اللہ جانتا تھا کہ اس شہید ہونے والے کی زندگی کے اس آخری لمحے کا لطف ایک ایسا لطف تھا جو باہر کی دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی۔پس جہاد کی راہ کی جو قربانیاں ہیں ان کا کوئی غم نہیں ہے اور جو ضرور لازما پیش آتی ہیں وہ تو پیش آئیں گی لیکن بہت معمولی ہوں گی۔جو عظیم انعام اس کے نتیجہ میں ملتے ہیں اس کے مقابل پر یہ قربانیاں معمولی، کچھ بھی نہیں ہیں۔رستہ چلتے کے کانٹے کی معمولی سی تکلیف سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ راولپنڈی کی جماعت اگر عظمت کردار رکھتی ہے، اگر محمد مصطفی امیہ کی سچی غلامی کا دعوی کرتی ہے تو یہی انتقام ہے جو ان کو لینا چاہئے اور خدا آپ کے ساتھ ہوگا اور اس انتقام میں آپ کی پوری مدد فرمائے گا اور تمام دنیا کی جماعتیں ان کے ساتھ مل کر اس انتقام میں پورا حصہ لیں۔ان معنوں میں خدا منتقم ہے کہ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتا ہے جو جہنم کی طرف جارہے ہوں ان کو جنت کی طرف بلانے سے بہتر انتظام اور کیا ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔