خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 707
خطبات طاہر جلد 13 707 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء معزز مہمان ہو اتنا ہی بڑے اعزاز کے ساتھ مہمانی کی جاتی ہے مگر جتنا معزز میزبان ہواصل مہمانی کی شان تو میزبان سے وابستہ ہوا کرتی ہے۔ایک بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ایک غریب کی کٹیا میں اتر جائے گا۔وہ چاہے گا کہ جان نچھاور کر دوں مگر پھر بھی غریب کی مہمانی ویسی ہی رہے گی لیکن صاحب اکرام بادشاہوں کی مہمانی جس کو نصیب ہو جائے اس سے بہتر اور کیا چیز ہوسکتی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ انعام مقرر فرمایا کہ ثابت قدم رہنا، بے خوف آگے بڑھتے چلے جانا کچھ نقصان ہوں گے۔وہ غم پورا کرنے کے ہم ذمہ دار ہیں۔اس دنیا میں بھی پورا کریں گے مگر اگر تم اس راہ میں مارے گئے یا کچھ عرصے کے بعد جب بھی تم ہمارے پاس لوٹو گے تو ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ جو خدا کے فرشتے تمہاری تائید میں تمہاری خدمت پر اس دنیا میں مامور تھے وہ آخرت میں بھی مامور رہیں گے۔وہ تمہارا ساتھ وہاں بھی نہیں چھوڑیں گے اور تمہیں وہ کچھ دیا جائے گا جس کی گہری تمنائیں تم رکھتے تھے لیکن حاصل نہ کر سکے۔جو کہو گے وہ تمہیں عطا کیا جائے گا اور یہ غفور رحیم خدا کی طرف سے مہمانی ہوگی۔تمہاری مہمان نوازی کے سامان ہوں گے۔ایک پہلو سے میز بانی کہا جا سکتا ہے یعنی خدا میزبان ہے تو اس کی طرف سے میز بانی ہوگی۔تم مہمان ہو تو تمہاری مہمانی ہو رہی ہے مگر اس سے بڑھ کر اعلیٰ مہمان نوازی کا کوئی تصور ممکن نہیں۔تو جس راہ کی طرف قرآن نے ہمیں بلایا ہے جس راہ میں آگے بڑھنے کی طرف خدا تعالیٰ نے ہمیں آواز دی ہے اس راہ میں آگے بڑھنا حکمت کے ساتھ ، ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ فتنہ وفسادنہ ہو، ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقاصد کم سے کم نقصان سے پورے ہوں اور اللہ ایسا ہی کرے گا۔مگر اس کے باوجود اس راہ میں اگر کوئی دکھ ہوئے کوئی مصیبتیں دیکھنی پڑیں، کوئی اور مسجدیں بھی مسمار ہو ئیں تو غم کا تو کوئی مقام نہیں یہ وہ مصیبتیں ہیں جو تمہارے جہاد نے بلائی ہیں، جہاد کا ایک لازمی حصہ ہیں اور جہاد کی راہ میں مصیبتیں بعض دفعہ اتنی پیاری ہو جایا کرتی ہیں کہ جولوگ ان مصیبتوں سے گزرتے ہیں ان کو اپنا فخر سمجھتے ہیں، ان کی لذتیں ان مصیبتوں میں ڈالی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض شہداء کو جب شہادت کے بعد خدا نے پوچھا اور اس واقعہ کی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خود اطلاع دی کہ بتاؤ تم کیا چاہتے ہو میں تمہاری قربانی تمہارے جذبہ شہادت سے ایسا راضی ہوا ہوں کہ بتاؤ تم کیا چاہتے ہو؟ تو جانتے ہیں انہوں نے کیا عرض کی۔انہوں نے عرض کی اے خدا ہمیں پھر زندہ کر، ہم پھر شہید کئے جائیں، پھر ہمیں زندہ کر، پھر ہم شہید کئے جائیں اور میں اسی طرح سوزندگیاں