خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 65

خطبات طاہر جلد 13 99 65 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء پیاری وَاَهْلِی اور میرے اہل و عیال سے بھی زیادہ پیاری وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ پیاری۔جب جان جاتی ہو تو پانی کتنا پیارا لگتا ہے اور پھر ٹھنڈا پانی۔فرمایا اس کیفیت میں جس طرح انسان پانی کے لئے مچلتا ہے اس سے پیار ہو جاتا ہے اس سے بھی زیادہ مجھے اے اللہ اپنی محبت عطا فرما۔حضرت داؤد کے اندر وہ کیفیت جو میں نے بیان کی ہے کہ ذکر کے ساتھ بجز بڑھتا چلا جائے یہ کیفیت بڑی شان کے ساتھ پائی جاتی ہے اور اس پہلو سے زبور کو تمام کتب میں ایک عظیم مقام حاصل ہے اور زبور کے گیت آج تک پڑھتے ہوئے وجد سا طاری ہو جاتا ہے کس طرح اللہ کی محبت میں آپ نے گیت گائے ہیں اور یہ اس دعا کا نتیجہ ہے۔پھر حضرت رسول اکرم ﷺ نے آپ کی فطرت کا وہ مرکزی نقطہ پکڑ لیا ہے جس کے نتیجے میں آپ کو پھر سب رفعتیں عطا ہوئی ہیں۔پس آج بھی جب ہم ذکر الہی کی باتیں کرتے ہیں تو بہت سے ایسے مقامات آتے ہیں کہ خوف پیدا ہو جاتا ہے۔کہ ہم میں ان رفعتوں کو حاصل کرنے کی کہاں طاقت ہے اور دل ڈرتا ہے اور اسی مضمون کے خطوط مجھے سب دنیا سے آتے ہیں کہ آپ نے وہ وہ باتیں شروع کر دی ہیں کہ ہم تو اپنے آپ کو بالکل اہل ہی نہیں پاتے ہمیں کیسے یہ باتیں نصیب ہوں گی اور دل ڈرتا ہے کہ اگر نہیں ہوں گی تو ہم گنہ گار نہ ہو جائیں اس کا جواب میں آج دے رہا ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا تم داؤد کی دعامانگا کرو اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے اپنی محبت عطا کی اور اپنی محبت میں گیت گانے کی صلاحیتیں عطا کیں۔یہ عشق کے ترانے حضرت داؤڈ کے زبور میں ملتے ہیں اس کی مثال آپ کو دوسرے نبیوں کی کتب میں نظر نہیں آئے گی۔فرماتے ہیں۔میں چلاتے چلاتے تھک گیا میرا گلا سوکھ گیا میری آنکھیں اپنے خدا کے انتظار میں پتھرا گئیں مجھ سے بے سبب عداوت رکھنے والے میرے سر کے بالوں سے زیادہ ہیں میری ہلاکت کے خواہاں اور ناحق دشمن زبر دست ہیں پس جو میں نے چھینا نہیں، مجھے دینا پڑا۔اے خدا تو میری حماقت سے واقف ہے اور میرے گناہ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔“ (زبور باب 69 آیت 3 تا5) بندوں کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں جو میں نے چھینا نہیں مجھے دینا پڑا۔ناکردہ گناہ کی سزا پا