خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 66
خطبات طاہر جلد 13 99 66 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 /جنوری 1994ء رہا ہوں لیکن دعا کرتے وقت یہ نہیں کہتے کہ اے خدا میں معصوم ہوں میری خاطر کچھ کر۔اللہ تعالیٰ کا کتنا گہرا عرفان تھا اس کی طرف منہ موڑتے ہیں تو کہتے ہیں اے خدا تو میری حماقت سے واقف ہے میرے گناہ تجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔میں کس منہ سے مانگوں مگر تیرے سوا مانگوں کس سے؟ اسی درد کی کیفیت کو کہ سر سجدے میں پڑا ہے اور انتظار ہے کہ خدا آ کیوں نہیں رہا، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یوں بیان کرتے ہیں۔شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا (درین صفحہ: 10) یہ وہ مناجات ہیں جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے بجز میں زمین پر چھی ہوئی ہیں لیکن آسمان تک رفعتیں پا جاتی ہیں۔حضرت داؤڈ کا ایک اور عشق باری تعالیٰ کا گیت ہے آپ کہتے ہیں: ”اے خداوند میں تیری تمجید کروں گا کیونکہ تو نے مجھے سرفراز کیا ہے اور میرے دشمنوں کو مجھ پر خوش نہ ہونے دیا۔“ پہلے دعا مانگی تھی کہ میرے دشمن میرے سر کے بالوں سے بھی زیادہ ہیں اب یہ قبولیت دعا کی طرف اشارہ ہے اور میرے دشمنوں کو مجھ پر خوش نہ ہونے دیا تو سُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْاَعَادِي ( درشین : 46) جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں ملتا ہے وہی مضمون ہے۔”اے خداوند میرے خدا میں نے تجھ سے فریاد کی اور تو نے مجھے شفا بخشی۔اے خدا تو میری جان کو پاتال سے نکال لایا۔“ میرا مقام تو یہ تھا کہ میں زمین کی سب سے نیچی گہرائی میں تھا۔کتنا پیارا کلام ہے۔”اے خدا! تو میرے جان کو پاتال سے نکال لایا۔تو نے مجھے زندہ رکھا ہے کہ گور میں نہ جاؤں۔خداوند کی ستائش کرو۔اے اس کے مقدسو! اس کے قدس کو یاد کر کے شکر گزاری کرو۔کیونکہ اس کا قہر دم بھر کا ہے اس کا کرم عمر بھر کا۔“ لیکن ایک بات جو قرآن نے بیان فرمائی اور وہ یہاں کھلم کھلا دکھائی نہیں دے رہی وہ یہ ہے کہ اس کا ایک دم کا قہر بھی ساری عمر کی نیکیوں کو برباد کر دیتا ہے۔اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ ایک دم کا غضب ہے اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ ایک دم کا غضب سب کچھ فنا کر جاتا ہے جب سیلاب