خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 697
خطبات طاہر جلد 13 697 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء سے کہ سردیوں میں اگر ایک سانسی ایک بلی کھا لے تو اس کی ساری سردیاں اچھی گزریں گی۔اتنا گرم گوشت ہوتا ہے تو ایک سانسی کے ہاتھ بلی آگئی اور اس نے اس کو کھانا شروع کیا تو کوئی پاس سے گز را اور ہمارے ہاں مشہور ہے کہ بلی کی آہ بہت اوپر جاتی ہے بلی کو دکھ نہیں دینا چاہئے۔تو اس نے جو دیکھا سانسی کو کھاتے ہوئے اس نے کہا تم نے کیا ظلم کیا ہے اس کی کوک تو عرشوں تک جاتی ہے۔سانسی نے کہا مجھے پتا تھا میں نے کوک نکلنے ہی نہیں دی۔نکلتی تو عرشوں تک جاتی نا۔میں نے ایسی گردن دبائی ہے کہ اس کی اوپر کی سانس اوپر، نیچے کی نیچے اور ایک ذرا بھی کوک نہیں نکلی۔تو یہ جو سانسی مسلط ہیں آج کل پاکستان میں، یہ اس فن کے بڑے ماہر ہیں۔یہ کہتے ہیں کوک نہ نکلنے دو۔مگر کو کیں تو نکلتی ہیں ظلم کی کو کیں تو کوئی دنیا میں دبا نہیں سکتا عین اس وقت جبکہ یہ واقعہ ہو رہا تھا جرمن ایمبیسی کا نمائندہ اس کی تصویریں کھینچ رہا تھا اور اپنے ملک میں Faxes یا ٹیلی رابطوں کے ذریعے پیغام بھیج رہا تھا کہ اس وقت پاکستان میں بابری مسجد کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔آج جب جماعت احمد یہ راولپنڈی نے اسی جگہ جمعہ پڑھا ہے خدا کے فضل کے ساتھ ، بڑے جوش و خروش کے ساتھ ، قطعا کوئی پرواہ نہیں کی کہ کوئی مولوی کسی ضرر کی نیت سے آئے کبھی اتنا آباد جمعہ وہاں نہیں پڑھا گیا جتنا آج پڑھا گیا ہے لیکن کھنڈروں پر پڑھا گیا۔اس کی بیرونی ایجنسیوں نے آ کر تصویریں کھینچیں، ویڈیو بنائی گئی تو یہ مجھتے ہیں کہ یہ کوک نہیں نکلنے دیں گے ظلم کی کوک تو نکلنی ہی نکلنی ہے کوئی دنیا کی طاقت روک نہیں سکتی۔وہ فلم میں نے منگوائی ہے وہ ہم انشاء اللہ MTA پر بھی دکھائیں گے تاکہ بابری مسجد کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا اندرونی گندہ کر دار تو دنیا دیکھے۔اگر کسی مسجد کے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کا حق ہے تو صرف جماعت احمدیہ کو ہے کیونکہ مسجدوں کی خاطر قربانی کرنے والی مذہبی جماعت دنیا میں ایک ہی ہے وہ جماعت احمد یہ ہے۔باقی تو قصے ہیں صرف کہانیاں ہیں۔پس یہ جو واقعہ گزرا ہے اس پر میں توجہ دلاتا ہوں جماعت راولپنڈی کو بھی، ساری دنیا کی جماعت کو بھی کہ اس کا رد عمل یہ نہیں ہے کہ بیٹھ کر آنسو بہائیں۔ایک زندہ جوان قوم ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ کوئی ہم سے عبادت کا حق چھین ہی نہیں سکتا۔زمین کا چپہ چپہ ہمارے لئے مسجد بنا دیا گیا ہے۔اسی طرح بہادری سے اور سر اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں، مڑکر ان بد بختوں کو دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔نظر میلی کرنے والی بات ہے اور خدا ایک کی جگہ سینکڑوں مسجدیں پہلے آپ کو دے چکا