خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 698

خطبات طاہر جلد 13 698 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء ہے اور دیتا چلا جائے گا اور یہ ظلم بھی خالی نہیں جائے گا۔اللہ نے جیسا کہ مجھے تصرف الہی کے تابع خوش خبری ساتھ ہی پہنچا دی کہ یہاں موحد کہلانے والے مشرک جو حرکت کر رہے ہیں تمہیں خدا توفیق دے رہا ہے کہ وہ جو مشرک تھے ان کو تم نے موحد بنا دیا اور وہ خدا کا ایک عظیم گھر تعمیر کر رہے ہیں۔یہ واقعہ ہے جو آئندہ ہر جگہ ہوگا اور ہوتا چلا جائے گا۔تو جس خدا کے اتنے انعام ہوں اور مقابل کی چوٹیں ہوں اور ہر چوٹ ان کے مخالف کی چوٹ سے ہزاروں گنا زیادہ عظمت رکھتی ہو۔اس قوم کو، ایسے خدا کی عبادت کرنے والوں کو کیا غم کا مقام ہے۔أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وہ آیت کا مضمون ہم پر صادق آتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا وہ لوگ جنہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور ہم کسی دنیا کی طاقت کو رب تسلیم نہیں کریں گے۔ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر اس دعوے پر ثابت قدم ہو گئے۔اس میں کسی ابتلاء کا ذکر نہیں مگر لفظ استقامت میں ہر ان کہی کہانی بیان کر دی گئی ہے۔استقامت تو کہتے ہی اس کھڑے ہونے کو ہیں جب کہ قدم لڑکھڑانے کی ہر کوشش کی جارہی ہو۔جب آندھی میں درخت قائم رہے تو اس کو کہتے ہیں استقام۔جب کسی کو دھکے دے کر گرانے کی کوشش کی جائے اور وہ نہ گرے تو اس کے لئے آئے گا استقام۔وہ قائم رہا با وجود مخالفانہ کوششوں کے۔تو فرما یار بنا اللہ کا دعویٰ کرنا آسان نہیں ہے کر تو دیتے ہیں لوگ مگر اصل سچائی اس وقت صاف ظاہر ہوتی ہے جب رَبُّنَا اللہ کا دعویٰ کرنے والا استقامت دکھائے کیونکہ اس دعوے کے بعد دنیا نے دشمنی ضرور کرنی ہے۔زلازل آئیں گے، ہر مخالفانہ کوشش ہوگی کہ تمہیں راہ حق سے ہٹا دیا جائے ، تمہارے قدم اکھیڑ دئے جائیں۔اللہ فرماتا ہے جس نے ثابت قدمی دکھائی اس کے ساتھ کیا ہوگا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا کثرت سے فرشتے ان پر نازل کئے جائیں گے اور کئے جاتے ہیں۔لَا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا تم بے خوف ہو جاؤ تم وہ قوم نہیں ہو جو خوف کے لئے بنائی گئی ہو۔ایک ذرہ بھی تمہارے دل اس وجہ سے نہ دھڑ کیں کہ دشمن طاقتور ہے اور یہ ایسے ایسے منصوبے بنا کر تم پر چڑھ دوڑا ہے۔لَا تَخَافُوا خدا کے بچے عبادت گزاروں، مومنوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ خوف رکھیں۔پس بے خوف آگے بڑھتے رہو۔کچھ نقصان ہو گا ضرور۔فرمایا وَلَا تَحْزَنُوا کچھ ہو بھی گیا ہے ورنہ لَا تَحْزَنُوا کا موقع کوئی نہیں تھا۔فرمایا معمولی سا نقصان تمہیں پہنچا ہے مگر کس خدا