خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 696
خطبات طاہر جلد 13 696 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء حق میں فیصلہ دیا تھا۔یہاں موحد کہلانے والی عدالت نے شرک کے حق میں فیصلہ دیا۔وہاں حکومت روکتی رہی لیکن اس کے باوجود زبردستی جب حکومت بے اختیار ہوگئی تو مسجد تو ڑ دی گئی اور ایک ایک اینٹ اتاری گئی یہاں حکومت کے حکم پر، اس کی شمولیت سے، ان لوگوں کو رقمیں ادا کی گئیں جنہوں نے مسجد توڑی۔یعنی پیسے بھی لئے حکومت سے اور حکومت کے ارشاد پر پروانہ لکھا گیا تھا اور حکومت کی حفاظت میں کام ہورہا تھا تو پھر اگر خدا کا رسول ان لوگوں کو آسمان کے نیچے سب سے بد بخت مخلوق قرار دے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔فرق بڑا واضح ہے کہاں بابری مسجد کا واقعہ جہاں مشرک عدالت، چوٹی کی مشرک عدالت، تمام حج مشرک ہیں ، بت پرست ہیں، مندروں کو مساجد سے بہت بہتر خدا کی یاد کا ذریعہ سمجھتے ہیں ان سب نے مل کر یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ کسی ہند و کوکوئی حق نہیں ہے کہ کسی مسجد کی کوئی ایک بھی اینٹ اتارے اور یہاں یہ موحد حکومتوں کی عدالتیں ہیں۔کہا جاتا ہے کہ خاص حکمت عملی استعمال ہوئی تھی۔وہ کیا تھی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کل دو بجے یہ فیصلہ سنایا گیا جس کے بعد تین چھٹیاں آرہی تھیں اور یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ احمدیوں کو Stay کی درخواست دینے کا وقت ہی نہ ملے لیکن مجیب الرحمان صاحب جو امیر ہیں وہ بڑے خدا کے فضل سے تجربہ کار اور مانے ہوئے چوٹی کے وکیل ہیں اور ان اداؤں کو سمجھتے ہیں انہوں نے پہلے سے ہی سب اپیل تیار کر رکھی تھی ، تمام کاغذات مکمل تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کیا فیصلہ ہونا ہے۔بعض دفعہ خط ملنے سے پہلے ہی انسان کو پتا ہوتا ہے کہ کیا جواب آنا ہے۔جیسے غالب نے یہ کہا ہے: قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں میں جانتا ہوں، جو وہ لکھیں گے جواب میں (دیوان غالب : 159) تو ہمارے مجیب صاحب بھی جانتے تھے کہ جس قسم کے لوگوں سے واسطہ ہے پتا ہے کہ وہ جواب میں کیا لکھیں گے تو انہوں نے بھی جواب تیار کر رکھا تھا مگر آخری شاطرانہ چال انہی کی چلی گئی کیونکہ وہ شاید مجیب صاحب کو جانتے تھے۔انہوں نے موقع ہی نہیں دیا۔یعنی اس آواز ، اس فریاد کو اوپر اٹھنے کا وقت ہی نہیں دیا گیا۔سانسی کی بلی کی طرح۔سانسی وہ لوگ ہیں جو خانہ بدوش ہیں اور خانہ بدوشوں میں سے ایک قسم ہے سائنسیوں کی ، وہ مشرک لوگ ہیں مسلمان نہیں مگر مسلمانوں میں سے اوڈھ ہیں مثلاً وہ بھی خانہ بدوش ہیں تو سانسی خانہ بدوشوں میں یہ بات رسما چلی آ رہی ہے بڑی دیر