خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد 13 687 خطبه جمعه فرموده 9 ستمبر 1994ء صلى الله ایک بات کو جیسے سمجھا ویسے اس پر عمل کر کے دکھا دیا لیکن وہ تقلید کے لائق نہیں ہیں کیونکہ تقلید کے لائق محمد رسول اللہ ﷺ کا وہ نمونہ ہے جو صحابہ میں ایک عمومیت اختیار کر گیا ہے اور صحابہؓ کی سوسائٹی میں وہ نمونه سرایت کر گیا تھا وَ الَّذِينَ مَعَهُ جس کے متعلق فرمایا ہے یہ نہیں فرمایا وَ الَّذِي مَعَهُ کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور وہ ایک ابوذر جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا بلکہ فرمایا وَ الَّذِينَ مَعَهُ وه تمام صحابہ رضوان الله علیهم جومحمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ان کا نمونہ پکڑو۔ صلى الله صلى الله پس اس وضاحت کی خاطر میں نے خصوصیت سے یہ حدیث آپ کے سامنے رکھی اور اسے کھول دیا مگر آنحضرت کا اپنا اسوہ حسنہ صرف گھر میں نوکروں سے نہیں بلکہ بیویوں سے بھی ، دوسرے عزیزوں سے بھی یہی تھا کہ ہر مشکل کام میں ان کے ہاتھ بٹایا کرتے تھے اور جو خود کھاتے تھے اس سے اپنے غلاموں کو بھی کھلایا کرتے تھے اور حسن سلوک ایسا تھا کہ غلام بھی اپنے بیٹوں کی طرح گھر میں زندگی بسر کرتے تھے۔ مگر یہ اخلاق کے وہ اعلیٰ پاک نمونے ہیں جن کو عامۃ الناس کے لئے لازم اور فرض قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے انسان ہیں مختلف درجات سے تعلق رکھنے والے انسان ہیں اگر آپ نے بہت اعلیٰ درجے کی نیکی کرنی ہو تو پھر وہی نمونہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے اپنے غلاموں اور ماتحتوں سے اختیار فرمایا۔ صلى الله حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے یہ بخاری کتاب العتق سے لی گئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں کسی کا نوکر کھانا تیار کر کے لائے تو تم اسے اپنے پاس بٹھا کر نہ کھلا سکو تو کم از کم دو لقمے تو اسے کھانے کو دے دو۔ اب حضرت ابو ہریرہ نے بھی یہ باتیں سنی تھیں اور ان کا ایک متوسط مزاج تھا اس مزاج نے جو ات سمجھی وہ ابوذرغفاری والی نہیں بلکہ ایک اور بات ہے اور یہی نمونہ صحابہ کی زندگی میں ہمیں دکھائی دیتا ہے اور یہی مضمون ہے جو مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کے عین مطابق ہے فرمایا کہ تم روز مرہ اگر اس کو ساتھ نہیں بٹھا سکتے تو کوئی گناہ نہیں ہے بعینہ وہی کھانا نہیں کھلا سکتے تو گناہ نہیں مگر کچھ تو کھلاؤ تا کہ خدا نے جو کچھ تمہیں نعمتیں عطا کی ہیں اس خدا کی ہدایت کے مطابق ان میں سے اپنے کمزور بھائیوں کا بھی تو کچھ حصہ ڈالو انہیں اس میں سے کچھ عطا کرو۔ پس یہ ہے وہ مفہوم جو حضرت ابو ہریرہ نے سمجھا اور بیان کیا کہ اپنے پاس بٹھا کر نہ کھلا سکو تو کم از کم ایک دو لقھے تو اسے کھانے کو دے دو کیونکہ