خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 686 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 686

خطبات طاہر جلد 13 686 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء اس مضمون میں غیر معمولی شدت اختیار کر گئے تھے اس لئے آپ کی احادیث میں کچھ ایک طرف جھکا ہوا مضمون نظر آتا ہے اور حضرت ابو ذر کی حدیث میں نے اس لئے آپ کے سامنے رکھی ہے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مختلف صحابہ آنحضرت ﷺ کی نصائح سے مختلف اثر قبول کیا کرتے تھے۔بعض اپنے مزاج کی وجہ سے ایک انتہاء کی طرف مائل ہو جاتے تھے اور اس مضمون کو پیش کرتے وقت ان کا یہ طبعی رجحان جو ہے ان کے کلام پر اثر انداز ہو جا تا تھا۔اسی لئے بعض مسلمان اشتراکی ،حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا کا پہلا اشترا کی قرار دیتے ہیں اور بڑے فخر سے یہ نام پیش کرتے ہیں۔ایک دفعہ لاہور میں ایک ایسے ہی اشتراکی سے میری گفتگو ہوئی تو اس نے کہا کہ اسلام تو نہ صرف یہ کہ اشتراکیت کا قائل بلکہ اسلام ہی نے اشتراکیت پیش کی ہے اور پہلا اشترا کی مارکس نہیں تھا بلکہ ابو ذر غفاری تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض دوسری باتوں میں بہت زیادہ اس بارے میں حد سے تجاوز کر دیا اور اپنے رہن سہن میں بھی انہوں نے اتنا زیادہ برابری کا تصور پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے اندر دوسری جگہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔پس اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ ابوذر نے جو بات بیان کی اصل میں وہ درست تھی کہ نہیں۔اس بات میں پڑنے کی ضرورت ہے کہ جو ابوذر نے ان باتوں کو سمجھا کیا باقی صحابہ نے بھی وہی سمجھا۔کیا حضرت ابو بکر نے بھی وہی سمجھا۔حضرت عمر نے بھی وہی سمجھا، حضرت عثمان نے بھی وہی سمجھا، حضرت علی نے وہی سمجھا۔اگر سب نے ہی سمجھا تو پھر ایک ابو ڈر نہیں مدینے کی ساری سوسائٹی ابوذروں میں تبدیل ہو جانی چاہئے تھی مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک کے سوا کسی صحابی کو رسول صلى الله اللہ اللہ کے ان مطالب کی سمجھ نہ آئی ہو اور آنحضور یہ صرف ایک ابوذر پیدا کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے ہوں۔پس صحابہ کو آپس میں ٹکرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے حدیثوں پر جہاں صحابہ کے عمل میں تضاد دکھائی دے وہاں گنجائش موجود ہے، یہ بات سوچنے کی کہ ہم اپنی اپنی سوچوں کے مطابق نیکی کے ساتھ اگر ایک رد عمل دکھاتے ہیں تو اگر وہ دوسروں سے مختلف بھی ہو اور بظاہر غلط بھی دکھائی دے،اگر نیک نیتی اس کا موجب بنی ہوئی ہے تو ہم دوسروں کے لئے تقلید کا نمونہ تو نہیں بنتے مگر گنہگار بھی نہیں بنتے۔پس ابوذر غفاری نے جو غلطیاں کیں وہ اس کے گنہگار نہیں ہیں ان کا ایک مزاج تھا جس نے