خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 688 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 688

خطبات طاہر جلد 13 688 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 ستمبر 1994ء اس نے یہ کھانا محنت کر کے تمہارے لئے تیار کیا ہے جس میں اس کا بھی حق ہے۔یہاں حق کہہ کر یہ فرما دیا گیا کہ تم جب ایسا کرو گے تو احسان نہیں ہو گا بلکہ تمہارے خادموں کا حق ہے کہ کچھ نہ کچھ اس میں سے ان کو ضرور دیا جائے اور جہاں تک ساتھ بٹھانے کا تعلق ہے اس کے متعلق بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میں نے سنا تھا مجھے اب حدیث کا حوالہ یاد نہیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں سے بہت پیار کرتے تھے اور ساتھ کئی دفعہ محن میں ٹہلتے ٹہلتے رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی بہت پیارے انداز میں باتیں فرمایا کرتے تھے اس لئے مجھے یاد ہے کہ مجھے آپ نے فرمایا کہ دیکھورسول اللہ ﷺ کا منشاء یہ تھا کہ اگر تم اپنے نوکر کو ہمیشہ اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتے تو کبھی کبھی ایسا کیا کرو کہ تم خدمت کیا کرو اور نوکر میز پر بیٹھے ہوں اور کبھی کبھی الله یہ کیا کرو کہ جو تم کھانا اچھا پکاتے ہو اپنے لئے ، وہ نوکروں کے لئے پکوا ؤ اور ان کو Serve کرو۔چنانچہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ نہیں بارہا مجھ سے یہ بات اس طرح بیان کی تاکہ میرے دل پر ، دماغ پر نقش ہو جائے لیکن ہمارے معاشرے میں اس پر عمل بڑا مشکل ہے کیونکہ جب میں نے کوشش کی بارہا تو کرسیوں سے اٹھ اٹھ کر نو کر بھاگتے تھے اور بعض ہنس پڑتے تھے کہ یہ ہم سے مذاق ہو رہا ہے۔میں نے حوالے دیے منتیں کیں کہ دیکھو رسول اللہ اللہ کے منشاء کو پورا کرنے کی خاطر، مجھے ثواب دینے کے لئے خدا کے لئے مان جاؤ مگر ان سے ہوتا نہیں تھا۔اور اس میں ان کا قصور نہیں، یہ معاشرے نے لمبے عرصے تک ان کی فطرتوں کو ایک قسم کا مسخ کر دیا ہے وہ سمجھتے ہیں ہم اس لائق ہی نہیں ہیں۔یہ معاشرے کا ظلم اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہمیں اسے بدلنا چاہئے اور جماعت احمدیہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ رفتہ رفتہ کوشش کر کے وہ اس چیز کو بدلیں چنانچہ میں کسی حد تک خدا کے فضل سے کامیاب بھی ہوا۔بعض دفعہ ان کو ضرور بٹھایا لیکن بار بار ایسا نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ انہوں نے صاف انکار کر دیا لیکن کچھ نہ کچھ عادت ضرور ڈالنی چاہئے اپنے کپڑوں جیسے کپڑے بنوا کے دینے چاہئیں اور یہ تو صحابہ میں عام رواج تھا۔حضرت علیؓ سے بھی روایت ہے دوسرے اور بھی بزرگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بعض دفعہ کپڑا طلب کرنے گئے ہیں دکاندار سے تو ایک کی بجائے دو جوڑے کٹوائے جب دکاندار نے پوچھا کہ آپ کو ایک ہی کافی ہے، ایک طرح کا دوسرے رنگ کا لے لیجئے تو آپ نے فرمایا کہ نہیں میں دوسرا اپنے غلام کے لئے لے رہا