خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 62

خطبات طاہر جلد 13 کسی بشر سے کوئی تعلق نہ رہتا۔20 62 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء پس اس مضمون کو یہ آیت بیان فرما رہی ہے لیکن ایک اور رنگ میں، اس طرح کہ یہ نہیں فرما تا کہ ہر بندے سے تعلق کٹ جاتا ، فرماتا ہے زمین پر میں کوئی جاندار زندہ نہ چھوڑتا۔اب انسانوں کی غلطیوں میں جانداروں کا کیا قصور؟ اس میں بہت گہرا فلسفہ یہ سمجھایا گیا ہے کہ تمام مخلوقات اپنی ذات میں پیدا کرنا مقصود ہی نہیں انسان پیدا کرنا مقصود تھا اور انسان کی خاطر یہ مختلف زندگیوں کی صورتیں پیدا کی گئیں اور انسان کے فائدے میں پیدا کی گئیں۔زندگی کی ہر شکل اس کا خواہ کیسا ہی بھیانک تصور آپ کے ذہن میں ہو کوئی نہ کوئی فائدہ اس عالمی وسیع اسکیم میں رکھتی ہے یعنی اس کا کوئی نہ کوئی کردار ایسا ہے جو خدا تعالیٰ کی وسیع تخلیق کی اسکیم میں وہ ادا کر رہی ہے اور کوئی چیز فائدے سے خالی نہیں ہے۔پس اس پہلو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انسان سے میراتعلق ٹوٹ جائے تو مخلوقات کو پھر زندہ رکھنے کا مقصد کوئی نہیں رہتا۔جس کی خاطر پیدا کی گئی تھی وہی نہیں رہا تو ان کے رہنے کا کیا فائدہ۔پس انسان کی سزا مخلوقات کو نہیں دی جائے گی لیکن چونکہ وہ انسان کی خاطر پیدا کی گئی تھیں اس لئے بے کار ہو جائیں گی۔اس مضمون کے پیش نظر انبیاء میں غیر معمولی انکسار پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح اپنے خدا کے حضور عاجزی اور گناہوں کا اقرار کرتے ہیں کہ ایک عام دنیا کا انسان حیران ہو کر دیکھتا ہے کہ جن کو میں بے داغ سمجھتا تھا جن کو میں سب سے اوپر سمجھتا تھا ان کا یہ حال ہے پتا نہیں کیا کیا گناہ ان سے سرزد ہوئے ہیں جو اتنی بخششیں طلب کر رہا ہے۔پس وہ لوگ جو تکبر کے کیڑے رکھتے ہیں ان کو اس مضمون کا عرفان حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔اگر اپنی ذات میں انسان اتر کے دیکھے تو پھر اس کو پتا چلے گا کہ کتنے داغوں سے پر ذات ہے اتنے داغ ہیں کہ ان داغوں سے سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔ایسا چھلنی ہو جاتا ہے کہ نیک اعمال ان میں رہ نہیں سکتے اور انسان اپنے زعم میں سمجھتا ہے کہ میں بہت کچھ آخرت کے لئے جمع کر رہا ہوں۔پس انبیاء سے انکسار سیکھیں پھر آپ کو ذکر الہی سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ ذکر الہی سے بعض دفعہ تکبر بھی پیدا ہو جاتا ہے اور کئی چھوٹے ظرف کے لوگ ، چھوٹے دل کے لوگ تھوڑی سی نیکیاں کرتے ہیں تھوڑا سا خدا کو یاد کرتے ہیں اور اپنے تئیں اپنے آپ کو بہت بڑا بزرگ بنا لیتے ہیں اور بجائے اس کے کہ وہ اور گریں اور زیادہ عاجزی اختیار کریں، ان کے سر بلند ہونے لگ جاتے ہیں حالانکہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ جتنا