خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 61
خطبات طاہر جلد 13 61 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء بنی نوع انسان کے ظلموں پر نظر رکھتا تو سطح زمین پر ایک جاندار کو بھی زندہ نہ چھوڑتا۔اس آیت کا حقیقی عرفان در حقیقت انبیاء کو ہوتا ہے اور اس آیت کے عرفان کے نتیجے میں ان میں ایک حیرت انگیز عاجزی پیدا ہو جاتی ہے۔انسان خواہ کتنے ہی بڑے مقام پر کیوں نہ پہنچ جائے اس کی بنیادی بشری کمزوریاں ایسی ہیں کہ جو اسے پوری طرح خدا کی عبادت کا حق ادا نہیں کرنے دیتیں۔پس ظلم سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کسی پر زیادتی کی جائے یا کھلم کھلا گناہ کیا جائے۔یہاں ظلم سے مراد کو تا ہیاں ہیں۔تو انسان کی کوتاہیاں ایسی ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ان پر نظر رکھتا تو تمام مخلوقات کو ہلاک کر دیتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں کی خوبیوں پر نظر رکھتا ہے اور ان خوبیوں کے رستے ان سے تعلق قائم فرماتا ہے۔اگر بندے کی بدیاں سامنے رکھتا تو کسی بندے سے اس کا کوئی تعلق نہ رہتا کیونکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی بعض ایسی عادتیں ، بعض بشری کمزور یاں خدا تعالیٰ کی شان سے اتنا نیچے ہیں کہ اس کے نتیجے میں اللہ کا تعلق اس سے قائم ہو نہیں سکتا۔اب نیک سے نیک انسان کا بھی آپ تصور کر لیں اس کی روز مرہ کی بشری حاجات ایسی ہیں وہ کسی جگہ جاتا ہے تو دعا مانگتا ہے اللہ میں خبث سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں ، خبائث سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔روز مرہ کی انسانی زندگی کا دستور ایسا ہے کہ ایک کامل روحانی ذات کے ساتھ کامل تعلق قائم ان معنوں میں ہو ہی نہیں سکتا۔آپ بعض دفعہ اپنے تعلق والوں میں ایک معمولی سی بدی دیکھتے ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہیں، طبیعت میں کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔بعض خاوند بڑے شوق سے بیویاں بیاہ کے لاتے ہیں اور ان کے اندر کوئی مکروہ عادت دیکھتے ہیں تو دل سے اتر جاتی ہیں۔بعض بیویاں بڑے شوق سے بعض مردوں سے بیاہ کرتی ہیں اور اس کے بعد ان کا دل نہیں لگتا، ایسے کئی معاملات میرے سامنے آتے رہتے ہیں پوچھا جائے تو کہتے ہیں ہمیں پتا ہی نہیں تھا اس میں یہ عادت ہے اور یہ عادت تو ہم برداشت کر ہی نہیں سکتے۔ایک لڑکی نے لکھا کہ میرے خاوند میں عورتوں کی طرح چغلی کی عادت ہے اور میں کسی قیمت پر ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔تو اس قسم کے چھوٹے چھوٹے نقائص انسان، انسان میں برداشت نہیں کرتا حالانکہ اس سے بہت زیادہ نقائص اس کے اپنے اندر بھی ہوتے ہیں۔تو اللہ کی شان دیکھیں کتنی بلند ہے اگر وہ اس طرح انسانوں کی کمزوریوں اور بدیوں پر نظر رکھتا تو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ اصدق الصادقین یہ فرماتے ہیں اس کا