خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 63

خطبات طاہر جلد 13 63 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء اللہ کو یاد کرواتنا جھکتے چلے جاؤ اور دعاؤں کی رفعتوں کا راز اس میں ہے کہ انسان کا سرسب سے زیادہ خدا کے حضور جھکا ہوا ہو۔میں نے پہلے خطبہ میں یہ بیان کیا تھا کہ ہماری نمازوں کا ہر سجدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ کیفیت جس میں سرزمین سے لگ گیا ہے اس سے نیچے جانہیں سکتا۔اس وقت ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ کہو سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى- کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں زمین پر اپنی پیشانی رگڑ رہا ہوں اور میں نے اپنے آپ کو سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر تر کر دیا ہے لیکن میرا رب جو ہر بدی سے پاک ہے،سب سے اعلیٰ ہے اور اسی کے تعلق میں اعلیٰ ہوسکتا ہوں اس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پس جتنا انسان ذکر الہی کے نتیجے میں انکسار حاصل کرتا ہے وہ جتنا خدا کے حضور جھکتا ہے، اتنا ہی اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رفعتیں عطا ہوتی ہیں اور یہ رفعتیں اللہ کا فضل ہے۔انسان کا مقام وہی ہے جو سجدے میں ہے، خدا کے حضور مٹی ہو جانا، اس کے سوا انسان کا کوئی مقام نہیں کہ جتنی رفعتیں نصیب ہوتی ہیں فضل سے نصیب ہوتی ہیں اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اس مضمون کو بار بار کھولا ہے، خود اپنی ذات کے حوالے سے کھولا ہے۔فرمایا میں بھی نہیں بخشا جاؤں گا جب تک فضل نہیں ہوگا اور دنیا کے عام چھوٹے چھوٹے انسان معمولی نیکیوں پر بھی شیخیاں بگھارنے لگتے ہیں اور دوسروں کو حقارت سے دیکھنے لگتے ہیں معاشرے کی بہت سی بدیاں اس راز کو نہ پانے کے نتیجے میں ہیں۔ایک انسان میں، ایک خاندان میں ایک برائی دیکھیں تو کس طرح زبانوں پر وہ برائیاں اُچھلتی پھرتی ہیں ایک زبان دوسری زبان سے اٹھاتی ہے اور آگے چلاتی ہے گویا کہ یہ تو ذلیل لوگ ہیں اور ہم پاک صاف ہیں۔بنیادی کیڑا دماغ میں یہی ہوتا ہے۔دوسرے کو فورا گنہگار اور حقیر جان لینا اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنا، اس کے نتیجے میں اصلاح کی کوشش نہیں ہوتی۔اس کے نتیجے میں معاشرے اور بگڑتے ہیں اور تکبر سے کبھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔یہ وہ کڑوی بیل ہے جس کو کبھی میٹھا پھل نہیں لگ سکتا۔پس جن کے اندر ذکر الہی ، عاجزی پیدا کرتا ہے ان کا سمجھانے کا انداز اور ہوتا ہے اور جو لوگ چھوٹے دل کے اور کم ظرف لوگ ہوتے ہیں وہ تیز زبانوں کے ساتھ پھر دوسروں پہ حملے کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہمارا حق ہے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم یہ کر رہے ہیں۔ہم نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کو قادیان میں دیکھا ہے وہ فرشتے انسانوں کے روپ میں گلیوں میں پھرتے تھے ان سے کبھی ہم نے تلخ کلامی نہیں سنی۔ہماری