خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد 13 الله 669 خطبه جمعه فرموده 2 ستمبر 1994ء اللہ ﷺ کے دربار میں آئیں گے تو اس تعلیم کی برکت ۔ برکت سے ان کے تقووں میں بھی ترقی ہوگی اور متقیوں کو بھی ہدایت ملے گی ۔ پس متقیوں کو تقویٰ سکھانے والا پاکبازوں کو پھر پاک کرنے والا یہ حضرت اقدس محمد مصطفی ملے تھے اسی لئے آپ نے پھر آخر پر یہ صیحتیں فرمانے کے بعد فرمایا کہ تقویٰ صلى الله یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔ مجھ سے تقویٰ سیکھو پھر تم پاک اور صاف بنائے جاؤ گے۔ پس معمولی سی بے رخی جو بھائی کے ساتھ ہے یہ بھی تقوی کے خلاف ہے۔ سودے پر سودا کرنا یہ بھی حسد اور بغض کا بچہ ہے کیونکہ اگرکسی بھائی کا اچھا سودا ہورہا ہے آپ کو تکلیف ہے تو آپ کہیں گے میرے ساتھ ہو جاؤ تو چار آنے بڑھا کر آپ بیچ میں دخل اندازی کریں اور سودا کر لیں تو یہ نا جائز ہے۔ ایک طرف منڈی میں مال لے جانے کی نصیحت ہے دوسری طرف براہ راست اتفاقاً سودے ہوتے رہتے ہیں ان کے آداب سکھا ۔ سکھائے گئے ہیں۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کا ہر سودا منڈی میں جا کر ہو۔ مراد یہ ہے جو قدرتی طبعی، اقتصادی ذرائع سے مال خود بخود منڈی پہنچتے ہیں ان کے اس طبعی Flow میں اس طبعی حرکت میں تم نے مداخلت نہیں کرنی اور اس کو مصنوعی نہیں بنادینا۔ یہ اقتصادی طبعی تقاضے ہیں ان میں دخل اندازی نقصان دہ ہے اور مومن کے لئے نا جائز ہے لیکن یہ مراد نہیں کہ آپس میں کوئی سودا نہیں کرنا۔ پس آپس کے سودوں میں یہ فرمایا گیا ہے جب آپس میں سودا کر رہے ہو تو وہ منڈی تو نہیں ہے جہاں بھاؤ دئے جائیں، جہاں نیلامیاں ہو رہی ہوں:۔ تمہارا فرض ہے کہ خاموشی سے وہ سودا ہونے دو، اگر وہ سودا ٹوٹ جاتا ہے نہیں ہوتا پھر تم زیادہ دے کر اس سے خریدنا چاہتے ہو تو تمہارا حق ہے اور اس سودے کے طریق کو بیاہ شادی کے ساتھ بھی وابستہ فرما دیا۔ اگر کسی کو علم ہو کہ اس کے کسی بھائی، کسی عزیز کسی دوست واقف نے کسی بچی کا پیغام دیا ہوا ہے تو اسلامی اسلوب یہ ہے کہ جب تک اس کا فیصلہ نہ ہو وہ انتظار کرے اور اگر کوئی لمبالٹکانا چاہتا ہے تو لڑکی کے ماں باپ کا فرض ہے کہ شروع میں اس کو بتا دیں کہ ہم مجبور ہیں ہم جلدی فیصلہ نہیں کر سکتے اس لئے آپ آزاد ہیں۔ اگر دوبارہ درخواست دینا چاہتے ہیں تو آپ کا حق ہے لیکن یہ جو سودا ہے یہ اس وقت کا لعدم سمجھا جائے ایسی صورت میں جو چاہے پیغام دے سکتا ہے لیکن اگر کوئی پیغام کسی کا آیا ہو اور وہ لٹکا کر بیٹھ جائے اور یہ انتظار کرے کہ شاید کوئی اور اچھا پیغام آ جائے تو یہ بھی سراسر ظلم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اس نصیحت کی خلاف ورزی ہے۔ پس جہاں ایک طرف پیغام پر