خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 659 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 659

خطبات طاہر جلد 13 659 خطبہ جمعہ فرموده 2 /ستمبر 1994ء دلچسپی نہیں ہے۔پس اخلاق کی حفاظت کریں اور جہاں تک لین دین کا معاملہ ہے جیسا کہ میں کھول کھول کر آپ کے سامنے بات کو رکھ رہا ہوں، اگر عقل استعمال کرنی ہے اور محض سودے کی بات کرنی ہے تو تب بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت سے ہٹنا اپنا سراسر نقصان کرنا ہے اور اگر مومنوں والے أُولُوا الْأَلْبَابِ بننا ہے، وہ صاحب عقل جو ہر سودے پر خدا کی رضا کو خرید لیا کرتے ہیں تو پھر دنیا کے فائدے تو آنے ہی آنے ہیں لیکن دن بدن آپ کا قدم اللہ کی رضا جوئی کی راہ پر آگے بڑھتا چلا جائے گا۔اللہ ہمیں اس اعلیٰ سودے کی توفیق عطا فرمائے۔روز مرہ کے جو دستور ہیں سو دوں کے ان میں بھی آنحضرت ﷺ نے بڑی باریک نصائح فرمائی ہیں اور دل حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ کس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی اخلاقی ضرورتوں کا اس قدر باریکی سے خیال رکھا ہے۔کوئی چھوٹی سے چھوٹی امکانی چیز ایسی نہیں جسے نظر انداز کر دیا گیا ہو۔روز مرہ جو تجارتیں ہوتی ہیں بازاروں میں جو دستور عام طور پر رائج ہیں باہر سے سودے لانے والے سودے لا رہے ہیں مارکیٹوں تک پہنچ رہے ہیں ان کے ساتھ شہر والے کیا سلوک کرتے ہیں۔ان سب باتوں پر آنحضور کی نظر تھی۔الله حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہر والا دلال بن کر دیہات سے تجارتی سامان لانے والے کا سودا نیچے۔( بخاری کتاب البیوع حدیث : 2525) اب یہ دیکھنے میں تو کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ایک شہر کا شخص کسی دوسرے دیہاتی کے مال کا سودا دلال بن کر نیچے تو اس میں کیا حرج ہے لیکن جیسا کہ میں باقی باتیں بھی بیان کروں گا غور کریں گے تو آپ کو ان کی حکمت سمجھ آجائے گی۔اسی طرح آپ نے اس سے بھی منع فرمایا کہ صرف بھاؤ بڑھانے کے لئے بولی دی جائے۔آپ نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی کے پیغام پر پیغام بھجوائے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ اس غرض سے نہ کرے کہ تا وہ اس کی جگہ لے اور اس کا حصہ اپنے برتن میں ڈالے۔ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تجارتی قافلے کو آگے جا کر ملنے اور سودا کر لینے سے منع فرمایا اسی طرح اس بات سے بھی منع فرمایا کہ کوئی شہر کا رہنے والا دلال بن کر دیہاتی کا سامان بکوائے۔یہ باتیں بہت گہری حکمت سے تعلق رکھتی ہیں اور تجارت کو ہر قسم کی گندگی سے پاک کرنے