خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد 13 660 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 /ستمبر 1994ء کے لئے بہت ہی اہم نصائح ہیں۔جب دیہاتی سودے لے کر شہروں میں پہنچتے ہیں تو اگر ان کو آگے بڑھ کر کچھ تاجر نہ ملیں اور منڈیوں تک اسی طرح پہنچنے دیں تو جس کا مال جس طرح ہے موازنے کے طور پر سب کے سامنے آجاتا ہے اور منڈی میں چونکہ ہر قسم کے مال پہنچتے ہیں اور ہر جگہ کے مال پہنچ رہے ہوتے ہیں اس لئے وہاں جو سودا ہے وہ آنکھیں کھول کر ہو رہا ہے۔اچھے برے کا حال معلوم ہو چکا ہوتا ہے اور جو قیمت طے ہوتی ہے وہ قدرتی اور طبعی اقتصادی قوانین کے تابع طے ہوتی ہے اس میں کوئی شکوہ نہیں کسی قسم کے دھوکے کی گنجائش نہیں ہے۔لیکن اگر دلال کسی دیہاتی کا سامان منڈیوں میں پہنچنے سے پہلے پرائیویٹ طور پر پھر کر بیچنا شروع کرے تو اس میں کئی قسم کی خرابیاں ہیں جو روز مرہ ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔اول ایسا دلال چاپلوسی کی باتیں کر کے خریدنے والے کو یہ دھوکہ دیتا ہے کہ میں تمہیں سنا دلوا رہا ہوں اور اگر منڈی میں مال آ گیا تو پھر تمہیں اس قیمت پر نہیں ملے گا۔اس لئے ابھی سودا کر لو ورنہ مارے جاؤ گے اور وہ سودا کر کے مارا جاتا ہے کیونکہ اکثر یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں اور بعض دفعہ دونوں سے دھوکہ کر رہے ہوتے ہیں۔وہ زمین دار بیچارے کو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ تمہارا مال بڑی قیمت پر بکوا ئیں گے اور ادھر سے اور قیمت وصول کرتے ہیں۔اس بے چارے کو جا کر اور قیمت دیتے ہیں۔تو یہ ایک دھوکے بازی کے نظام کو فروغ دینے والی بات ہے اس لئے محض دلالی منع نہیں مگر دلالی وہ ہو جوسب کے سامنے منڈیوں میں ہواس پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن مخفی دلالی جو مارکیٹ کو بائی پاس کر کے دھو کے کے طور پر کی جائے اور حقیقت پر پردہ ڈال کر کی جائے وہ دھوکہ دہی ہے۔آنحضرت ﷺ کی بار یک نگاہ یہاں تک بھی پڑی ہے اور ان مخفی دھوکوں سے بھی آپ نے ہمیں متنبہ فرمایا ہے حالانکہ سرسری نظر میں یہ بات عجیب لگتی تھی کہ شہر والا دیہات کی دلالی کر رہا ہے تو کیا نقصان ہے۔اصل میں اعلیٰ تجارت کے اصول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے سکھا دئے ہیں کہ آج کی دنیا میں بھی وہی اصول اطلاق پارہے ہیں۔ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔منڈیوں کی آزادی کی حفاظت ہے جو آزاد تجارت کو فروغ دیتی ہے۔اگر منڈیاں آزاد نہ ہوں تو تجارت آزاد نہیں رہ سکتی اور پھر منڈیوں میں بھی یہ نصیحت کہ جو برا مال ہے اس کو برے مال کے طور پر دکھا کے لوگوں کے سامنے پیش کرو۔جو خراب مال ہے اس کو خراب اور جو اچھا مال ہے اس کو اچھے مال کے طور