خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 656
خطبات طاہر جلد 13 656 خطبہ جمعہ فرمود و 2 ستمبر 1994ء کر سمجھنا چاہئے کہ کیوں فرمایا گیا ہے۔مراد یہ ہے کہ جو شخص ایسا بد نصیب ہو کہ اپنے بھائی مسلمان کے پیسے بھی مار جاتا ہے اس سے غیروں کے معاملات میں انصاف کرنے کی کوئی دور کی بھی توقع نہیں کی جاسکتی۔وہ تو سارے بنی نوع انسان کے لئے خطرہ بن جاتا ہے۔پس لفظ مسلمان کہنا اس موقع پر غیر کے مال کھانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ غیر کے مال کھانے سے روکنے کے لئے ایک عمدہ نصیحت کا طریق ہے جسے اسلام کی محبت کو اکسا کر آنحضرت ﷺ نے تربیت کے لئے استعمال فرمایا ہے۔پس فرمایا کہ جو شخص ظلماً کسی مسلمان کا حق مارلے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوزخ کی آگ مقدر کر دیتا ہے اور جنت اس پر حرام کر دیتا ہے۔حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خرید وفروخت کرنے والوں کو جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں انہیں اختیار ہے کہ وہ سودا فسخ کر دیں اور اگر خرید و فروخت کرنے والے سچ بولیں اور مال میں اگر کوئی عیب یا نقص ہے تو اسے بیان کر دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے اس سودے میں برکت دے گا اور اگر وہ دونوں جھوٹ سے کام لے کر کسی عیب کو چھپائیں گے یا ہیرا پھیری سے کام لیں گے تو اس سودے سے برکت نکل جائے گی۔( بخاری کتاب البیوع حدیث : 2825) اس میں لین دین کے معاملات کی دو تین نصیحتیں ہیں ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔روز مرہ کا اپنا فطرت ثانیہ کی طرح کا دستور بنا لینا چاہئے۔ایک تو یہ کہ جب تک سودا ہورہا ہے اور اگر افہام و تفہیم ہو بھی گئی ہے، ہاں کہہ بھی دی گئی ہے اگر اٹھنے سے پہلے کوئی شخص وہ سود ا فسخ کر دیتا ہے تو اس کو حق ہے لیکن اٹھنے کے بعد جب جدائی پڑ جائے پھر اس کو حق نہیں ہے کہ اس سودے کو فسخ کرے۔دوسرے بات یہ فرمائی گئی ہے کہ خرید و فروخت کرنے والے بیچ بولیں یعنی اپنے اموال کے عیوب بھی بیان کریں۔آنحضرت ﷺ کا یہ دستور تھا کہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ جس کی ڈھیری ہے گندم وغیرہ کی ، جنس کی اس میں جو خراب دانے ہیں وہ اوپر کر کے پیش کرے اور جو کمزور دانے ہیں یا خراب ہیں یا بھیگے ہوئے ہیں ان کو خشک دانوں میں چھپائے نہیں۔چنانچہ خلفاء کا بھی یہی دستور تھا کہ نگرانی فرماتے تھے کہ منڈیوں میں یہ دھو کہ نہ ہو کہ اچھے صحت مند دانے اوپر رکھے گئے ہوں اور خراب دانے نیچے دبا دئے گئے ہوں۔ہمارے ہاں تو معاشرے میں روز مرہ کا دستور ہی یہ ہے۔پھلوں کی پیٹیاں سجائی جاتی ہیں تو اچھے پھل چن کر اوپر رکھے جاتے ہیں اور سارے گندے نیچے ڈال دئے جاتے ہیں