خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد 13 657 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 رستمبر 1994ء اور اس کے بعد جب کھولنے والا دیکھتا ہے تو بعد میں پتا چلتا ہے وہ کس بات کا سودا کر بیٹھا ہے۔تو بددیانتی کے سودے نے سارے کے سارے معاشرے کو گندہ کر دیا ہے۔کسی چیز پر اعتبار نہیں رہا۔یورپ میں دیکھیں کبھی اس معاملے میں دھو کے سے کام نہیں لیتے۔جو چیز سامنے دکھائی دے رہی ہے وہی اندر بھی ہوگی۔آخری تہہ تک وہی چیز نکلتی چلی جائے گی۔پس جماعت احمدیہ کو اس معاشرے میں رہ کر اس نیکی میں بھی ان سے آگے نکلنا چاہئے۔جب قوموں میں اقتصادی بحران پیدا ہوتے ہیں تو بعض اقوام کے اخلاق جو اقتصادی تجربے کے نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں اور اقتصادی ترقی کے نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں وہ رفتہ رفتہ کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ان کے اخلاق ہم سے بہت اچھے ہیں ان باتوں میں ،مگر ان کی بنیاد مذہب نہیں ہے بلکہ سینکڑوں سال کا اقتصادی تجربہ ہے۔اقتصادی تجربے نے ان کو بعض اصول سکھائے اور ان سے انہوں نے فائدہ اٹھایا لیکن جب اقتصادی بحران پیدا ہوں تو غیر مذہبی قوموں کے ایسے اخلاق بھی ہاتھ سے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ان کی بقاء کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔مذہبی قوموں میں فرق یہ ہے کہ اگر وہ بچی ہوں اگر واقعہ اللہ سے تعلق ہو تو اقتصادی بہتری یا اقتصادی بدحالی کا ان کے اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہر صورت میں ہر حال میں وہ اپنے اعلیٰ اخلاق پر قائم رہتے ہیں۔پس جماعت جرمنی میں خصوصیت سے جہاں اب احمدی تجارت کی طرف مائل ہورہے ہیں نصیحت کرتا ہوں اور یہ نصیحت سب دنیا کے لئے ہے مگر آج میں چونکہ جرمنی سے خطاب کر رہا ہوں اس لئے جرمنی اولین مخاطب ہے۔اپنے تجارت کے معاملے میں ایسا نمایاں کردار دکھائیں کہ وہ ضرب المثل بن جائے اور ہر تجارت کرنے والا جو احمدی سے تجارت کرے اسے کامل یقین ہو کہ احمدی کبھی دھوکہ نہیں دیتا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ برکت پڑے گی اور یہ نہ کرو گے تو تمہاری برکتیں زائل ہو جائیں گی۔اس لئے خواہ روحانی طور پر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر یہ کام کریں، خواہ عقل سے کام لیں دونوں کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔عقل سے کام لیں تب بھی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ تجارتوں میں برکت پڑے تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت پر عمل کریں اور کامل سچائی سے اور صاف گوئی سے کام لیں ، اپنے مال کا جو نقص ہے وہ بتایا کریں اور پھر جو سودا ہوگا وہ یقینا اس موقع پر ہی برکت کا موجب نہیں بلکہ آئندہ بھی ہمیشہ آپ کے صلى الله