خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 655
خطبات طاہر جلد 13 655 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 ستمبر 1994ء اس لئے کہ میرا احمدیوں سے تعلق تھا اور میں جانتی تھی کہ احمدی عام انسانی معاملات میں باقی سب سے بہتر ہیں اس بات پر بھروسہ کرتے ہوئے میں نے اس پر بھروسہ کیا بلکہ احسان کا معاملہ کیا تو بہت ہی تکلیف دہ صورتحال میرے سامنے آئی اور ایسی اور بھی آتی رہتی ہیں اگر چہ کم ہیں مگر ہیں ضرور۔پس آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کو غور سے سن لیجئے۔حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ظلماً کسی مسلمان کا حق مارلے اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوزخ کی آگ مقدر کر دیتا ہے اور جنت اس پر حرام کر دیتا ہے۔اس پر ایک شخص نے عرض کیا حضور اگر وہ تھوڑی سی چیز ہوتو پھر بھی آپ نے فرمایا ہاں چاہے پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔معمولی بھی ہو تو اس کی یہی سزا ہوگی۔لیکن یہاں لفظ مسلمان سے آپ کسی دھوکے میں مبتلا نہ ہوں۔دوسری احادیث میں بالبداہت یہ ذکر ملتا ہے کہ مسلمان کے لئے کسی انسان کا حق مارنا بھی دوزخ کھانے کے مترادف ہے۔پس بعض دفعہ آنحضرت ﷺ نے مسلمان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔مسلمانوں میں اسلام کی محبت کے تقاضے کے پیش نظر ، ان کو خصوصیت سے ایک تحریک کرنے کی خاطر اور ایک چیز کی کراہت بتانے کے لئے جو شخص اپنے بھائی کو نہیں چھوڑے گا غیر کو اس سے کیسے امن مل سکتا ہے۔پس یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ آنحضور کا مقصد یہ ہے کہ تم مسلمان کا مال نہ کھانا بلکہ غیروں کے کھا جانا۔یہ تو ایک ایسی چیز ہے جس پر قرآن لعنت ڈالتا ہے اور یہود کی مثال لعنت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ اپنوں کے تو بے شک حقوق ادا کرو، غیروں کے پیسے جتنے ہیں کھاؤ سب تم پر حلال ہے۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے پاکستان کے بعض مولوی فتوے دیتے پھرتے ہیں اور کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں کہ جس جس نے بھی کسی احمدی کے پیسے دینے ہیں وہ نہ دے وہ اس احمدی پر حرام ہیں اور جس نے دینے ہیں اس پر حلال ہو چکے ہیں تو یہ بد بخت یہود کی خصلت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور قرآن اس عادت پر لعنت ڈالتا ہے کہ اپنوں کے پیسوں کے ساتھ تو ٹھیک معاملہ کرو اور غیروں کے پیسے ہضم کر جاؤ۔یہ ایک ایسی مکروہ چیز ہے جس کی مثال قرآن کریم نے کھول کر بیان کر دی۔پس احادیث نبویہ کو قرآن سے الگ کر کے ان کو سمجھنا ایک جہالت ہے اور احادیث پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔پس جہاں بھی مسلمان کا لفظ آیا ہے وہاں گہرائی سے اس مضمون میں ڈوب