خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 639 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 639

خطبات طاہر جلد 13 639 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء بدیوں کی بیخ کنی کا ایک نظام جاگ اٹھے گا اور وہ نظام اندر ہی سے جاگا کرتا ہے۔باہر کی نصیحت ایسا اثر نہیں دکھاتی جیسا کہ اندر سے جب بدیاں دور کرنے کا نظام جاگتا ہے تو اثر دکھاتا ہے۔آپ کی ذات میں ایک شعور بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔آپ کی ذات میں اس احساس کے جاگ اٹھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اپنی کمزوریوں کو کم کرنا ہے اور اپنی خوبیوں کو بڑھانا ہے۔اگر یہ سلسلہ آپ شروع کر دیں تو آپ پہلی نصیحت اپنی ذات کو کریں گے اور یہیں سے اس ہتھیار کو چلانے کا سلیقہ سیکھیں گے۔اپنی ذات میں ڈوب کر، اپنے اندرونے میں خوب پھر کر جائزہ لیں کہ آپ میں کیا کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور کسی نہ کسی کمزوری کو دور کرنے کا فیصلہ کریں اور بار بار اپنے آپ کو یاد کرائیں کہ یہ کمزوری اب پھر سر اٹھا رہی ہے، اور پھر سر اٹھا رہی ہے، اور پھر سر اٹھا رہی ہے اور ہر دفعہ اس اٹھتے ہوئے سر کو دبانے کی کوشش کریں۔دعاؤں کے ساتھ ، انکسار اور محنت اور کوشش اور صبر کے ساتھ ، تو میں یقین رکھتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کے اندر بہت ہی پاک تبدیلیاں پیدا فرمادے گا۔ایسا نصیحت کرنے والا جو اپنی ذات کو نصیحت کرتا ہے۔ایسا نصیحت کرنے والا جو اپنی ذات کو نصیحت کرتے ہوئے نصیحت کے آداب سیکھتا ہے وہ دوسروں کو نصیحت کرنے کا بہترین اہل بن جاتا ہے اور یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف میں خصوصیت سے آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔آپ جب اپنی ذات کو نصیحت کرتے ہیں تو کبھی آپ کی نصیحت آپ کی ذات کو بری نہیں لگتی کیا وجہ ہے؟ اس لئے کہ ایسی اپنائیت ہے کہ گویا ایک ہی وجود ہے جو نصیحت کرنے والا ہے اور ایک ہی وجود ہے جس کو نصیحت کی جارہی ہے۔ان کے درمیان دوئی کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔پس جب اس بات کو آپ سمجھیں کہ آپ جب اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہیں تو کیوں وہ نصیحت آپ کو بری نہیں لگتی آپ کو اس غور کے نتیجہ میں دوسروں کو نصیحت کرنا آجائے گا۔آپ جب اپنی کسی برائی کو دیکھتے ہیں تو اپنی ذات میں اپنے وجود کو بار بار جھنجھوڑتے ہیں اور سمجھاتے ہیں مگر گالیاں دے کر نہیں بلکہ بے قراری کے ساتھ ، بے چینی کے ساتھ ، شرمندگی محسوس کرتے ہوئے اور اپنائیت کے ساتھ یہاں تک کہ آپ کا نفس خود آپ کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کرتا اور پھر دعا کرتے بھی ہیں اور دعا کرواتے بھی ہیں اور مسلسل اس بات کی کوشش کرتے چلے جاتے ہیں کہ وہ بدی دور ہو۔جب تک دور نہ ہو آپ نصیحت سے باز نہیں آتے۔یہی وہ کامیاب طریق ہے یہی وہ صحیح طریق ہے جس سے آپ دوسروں کی بدیاں دور کر سکتے ہیں۔