خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 638
خطبات طاہر جلد 13 638 خطبه جمعه فرمود و 26 اگست 1994ء ہونا شروع ہو جائے۔با ادب جو میں نے کہا ہے اس لفظ ادب میں محض اردو کا مضمون داخل نہیں بلکہ عربی کا مضمون میرے ذہن میں ہے۔آنحضرت مہ کی وہ احادیث جن میں اعلیٰ اخلاق سکھائے گئے ہیں اور محض اخلاق سے تعلق رکھنے والی احادیث ہیں ایسی کتابوں میں جن میں وہ احادیث ہوں کتاب الآداب کہا جاتا ہے اور ادب سے مراد روز مرہ زندگی کا طریقہ ہے۔خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی گزارنا اور خوش اسلوبی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرنا یہ سارا لفظ ادب کے اندر داخل ہے۔پس جماعت جرمنی میں ادب کے معیار کو بلند کرنے کی بہت ضرورت ہے۔چند دن پہلے جب میں ابھی انگلستان ہی میں تھا کسی صاحب نے مجھے جماعت جرمنی کی اسی کمزوری کا طعنہ دیا اور کہا کہ آپ تو باتیں کرتے ہیں بڑی اچھی جماعت ہے، بڑی مخلص جماعت ہے، فدائی ہے، خدمت دین میں ہر معاملے میں آگے قدم بڑھانے والی ہے مگر میرے علم کے مطابق تو ان میں بہت سی اخلاق سے گری ہوئی باتیں ہیں ان کے گھروں میں بھی کوئی ادب کا سلیقہ نہیں ہے اور اپنے ماحول کے لئے کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کرتیں۔میں نے صبر کے ساتھ اس طعن کو برداشت کیا اور دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ میں جماعت جرمنی کو یہ باتیں سمجھاؤں کہ ان کی روزمرہ کی کمزوریاں بعض لوگوں کے لئے طعن و تشنیع کا سامان مہیا کرتی ہیں اور اگر یہ بات درست ہے جیسا کہ بیان کی گئی تو پھر میں نے ضروری سمجھا کہ جماعت کو توجہ دلاؤں کہ میری نظر میں آپ کا جو بھی مرتبہ اور مقام ہوگا میں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا کی نظر میں بھی آپ کا وہی مرتبہ اور مقام ہومگر جو با تیں، جو کمزوریاں میری نظر سے پوشیدہ ہیں اور آپ کو بُری نظر سے دیکھنے والے کی نظر میں نمایاں ہیں ہم دعا کریں کہ اللہ کرے کہ وہ باتیں آپ کے اندر سے غائب ہو جائیں جیسے کبھی ان کا کوئی وجود ہی آپ میں نہیں تھا اور آپ کا ظاہر و باطن پاک اور صاف ہو جائے۔آپ میں جو خو بیاں ہیں وہ بدیوں کو کھا جائیں یہ بات جو میں نے کہی ہے کہ آپ کی خوبیاں بدیوں کو کھا جائیں یہ اپنی طرف سے نہیں کہی قرآن نے یہی اعلان فرمایا ہے۔اِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيات (صور :115) کہ یاد رکھو کچی نیکیاں، حقیقی نیکیاں بری باتوں کو کھا جاتی ہیں۔پس اگر میری توقعات آپ سے درست ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ درست ہیں تو میں یہ بھی امید رکھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے توقع رکھتا ہوں کہ قرآن کی اس خوش خبری کے مطابق رفتہ رفتہ آپ کی بدیوں کو آپ کی نیکیاں کھا جائیں گی اور آپ کے اندر سے