خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 640
خطبات طاہر جلد 13 640 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء جب دوسروں کو نصیحت کریں تو اپنے تجربوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ذات میں ڈوب کر جو سبق آپ نے سیکھے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی نصیحت کریں کہ دوسرا یہ سمجھے کہ آپ اس سے بالا کوئی الگ ذات نہیں ہیں بلکہ اس کے وجود کا ایک حصہ ہیں اور گہری ہمدردی اور اپنائیت کے ساتھ آپ اسے نصیحت کر رہے ہیں اور پھر اگر وہ نہ مانے تو چھوڑنا نہیں مگر غصے کا اظہار نہیں کرنا۔جس طرح آپ کا نفس جب آپ کی بات نہیں مانتا تو آپ اسے چھوڑتے نہیں مگر غصے کا اظہار بھی نہیں کرتے ،مسلسل محنت کرتے چلے جاتے ہیں۔فَذَكِرانْ نَّفَعَتِ الذِكْرَى (الاعلیٰ : 10 ) میں یہی مضمون ہے جو میں بار بار آپ کے سامنے کھول چکا ہوں کہ نصیحت کریں اور کرتے چلے جائیں، نصیحت سے چمٹ جائیں۔وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ( العصر : 5 ) ایسے لوگ بن جائیں جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ وہ صبر کے ساتھ اچھی باتیں کہتے چلے جاتے ہیں تو جیسے اپنی ذات میں آپ صبر کرتے ہیں ویسے ہی دوسروں کی ذات میں بھی صبر سے کام لیں اور پیار اور محبت کے ساتھ مسلسل سمجھاتے چلے جائیں اور ان وقتوں کا انتظار کریں جب انسان کا وقت ، انسان کی روح ، انسان کا دل نصیحت کو قبول کرنے کے لئے خاص طور پر آمادہ ہوتا ہے اور ہر حال میں انسان جس کو نصیحت کی جاتی ہے جب غم زدہ ہو تو وہ نصیحت کام آجاتی ہے، اگر خوف زدہ ہو تو وہ نصیحت کام آ جاتی ہے۔انسان کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں اور ان بدلتی کیفیتوں میں نصیحت کا اثر پذیر ہونا بھی ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔اگر اپنی ذات پر آپ غور کریں تو آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ بعض دفعہ بعض بدیاں آپ اپنی جان سے چھڑا نہیں سکے مگر کسی صدمے کی حالت میں کسی خوف کی حالت میں آپ نے خصوصیت کے ساتھ اس بدی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور آپ کو کامیابی نصیب ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ ایک انسان ایک مشکل میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس خوف کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بھی عہد کرتا ہے کہ اے خدا مجھے اس مشکل سے بچالے تو میں اس بدی کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دوں گا یا اس بد خیال سے باز آ جاؤں گا اگر تو مجھے اس سے بچالے گا۔ایسے بھی بہت سے واقعات ہیں جو احادیث میں ہمیں ملتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے نصیحت آموز باتیں جو بیان فرمائیں ان میں اس قسم کی بھی کئی باتیں ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بعض خاص وقت ہوتے ہیں جن میں بعض نصیحتیں زیادہ گہرا اثر کرتی ہیں۔پس وقتوں کے لحاظ سے ، مناسبتوں کے لحاظ سے نصیحت کرنا یہ بھی ایک فن ہے اور اس کے مطابق کسی