خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد 13 594 خطبه جمعه فرمود و 12 راگست 1994 ء سامنے آجاتی ہیں اور اس وقت یہ نکتہ سمجھ آتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے بھائیوں سے معاملات میں دیانتداری کے سلوک نہیں کئے۔جو اعلیٰ تو قعات امانت کی ان سے وابستہ تھیں ان کو پورا نہیں کیا۔اور پھر خدا سے شکوے ہیں کہ ہم تیرے حضور گریہ وزاری کرتے رہے ماتھا ٹیکتے رہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ایک اور اہم پہلو اس میں قابل توجہ یہ ہے کہ اللہ کے حضور محض مالی ضرورت لے کر جانا یہ دعا کی قبولیت کی ضمانت نہیں ہو سکتی۔اللہ سے تعلق اور محبت کے رشتے استوار رہنے چاہئیں اور ان رشتوں کے نتیجے میں پھر خدا کے فضل نازل ہوتے ہیں اور جہاں محبت کے تعلقات استوار ہوں وہاں نقصان بھی انسان خدا کی خاطر خوشی سے برداشت کرتا ہے۔پس اگر نقصان کے وقت انسان کے غصے کا پارہ چڑھ جائے اور انسان یہ سمجھے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے یہ میرا نقصان ہونے دیا، یہ تکبر بھی ہے اور قرآن کریم اس کے خلاف سخت کراہت کا اظہار فرماتا ہے۔ایسے شخص کے لئے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی وعید ہے۔پس اپنے نقصانات میں بھی آپ پہچانے جاتے ہیں اور ایسی صورت میں جو واقعہ خدا کے حضور راضی برضا رہتے ہوئے سر جھکا دیتا ہے اس کی ضرورت کی دعائیں پھر پوری کی جاتی ہیں۔اس لئے اس مضمون سے یہ جو مختلف بار یک پہلو نکل رہے ہیں یہ حدیث کے الفاظ تو چند ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور ایک دو مثالیں دے کر مضمون کھول رہا ہوں اپنے تمام زندگی کے تعلقات کے دائرے میں اس بات کو استوار کر کے دیکھیں امر واقعہ ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے بندوں کی مدد میں رہتے ہیں دعانہ بھی کریں تو اللہ ان کی مدد پر رہتا ہے اور جو اپنے بھائیوں ، اپنے قریبیوں کے حال سے غافل رہیں خواہ ان کا مالی نقصان نہ بھی کریں، بد دیانتی سے نہ بھی پیش آئیں لیکن ان کے غم محض اپنی ذات کے لئے ہوں، اپنے عزیزوں کے لئے نہ ہوں، اپنے گردو پیش کے لئے نہ ہوں، ان کی دعائیں بھی اسی حد تک کمزور ہو جاتی ہیں۔پس دعاؤں کی قبولیت کا گہرا راز اس مضمون میں ہے کہ جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس سے رحم کا سلوک نہیں فرماتا۔ایک حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: قال : رسول الله الا الله من استعاذ بالله فاعيذوه، ومن سال بالله فاعطوه، ومن دعاكم فاجيبوه، ومن صنع اليكم معروفا