خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 593 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 593

خطبات طاہر جلد 13 593 خطبه جمعه فرمود و 12 / اگست 1994ء رہیں اور يَنْهَونَ کا مطلب ہے وہ لوگ برائیوں سے روکتے رہیں تو اس وضاحت کے بعد میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ جو خطبات کا سلسلہ شروع ہے اس کا بنیادی طور پر اسی مضمون سے تعلق ہے۔کچھ نیک نصیحتیں جو میں کر رہا ہوں وہ تمام حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے حوالے سے کر رہا ہوں کیونکہ آنحضور ﷺ کی چھوٹی چھوٹی نصیحتوں میں بھی بہت عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں۔بہت گہرا اثر ہے۔بہت وزنی ہیں جہاں تک دلوں پر اثر کا تعلق ہے۔صلى الله آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت جریر روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔( بخاری کتاب الادب حدیث نمبر : 5554) ایک چھوٹا سا فقرہ ہے اس میں ایک عظیم الشان حکمتوں کا سمندر بیان ہو گیا ہے۔ہر انسان اللہ تعالیٰ سے ایک توقع رکھتا ہے اور اس سے نیچے بندے اس سے کچھ توقع رکھتے ہیں۔اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی توقعات اللہ تعالیٰ پوری فرمائے تو ضروری ہے کہ اپنے نیچے جو بندے اس کے سپرد ہیں ان کی توقعات اپنے حق میں پوری کر کے دکھائے۔یہ ناممکن ہے کہ خدا کے بندوں سے تعلق کاٹ دیا جائے اور خدا کا تعلق برقرار رہے۔پس یہاں رحم کا تعلق ہے اگر چہ یہ لفظ عام طور پر نرم دلی سے پیش آنے کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر وہ بات جس میں آپ اپنے ہم جنسوں سے یا اپنے ماتحتوں سے بدسلو کی کرتے ہیں یا ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے۔ان تمام باتوں میں اصولاً آپ اللہ تعالیٰ کے رحم کے اور اس کے پیار کی توجہ کے مستحق نہیں رہتے۔پس اس پر غور کر کے اگر ہم اپنے تمام تعلقات کے دائروں کی نگرانی کریں تو بہت سے ایسے تعلقات ہیں جن میں ہمیں رخنے دکھائی دیں گے اور بہت سی ایسی دعائیں ہیں جن کی ناکامی کا سبب معلوم ہو جائے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے بڑی گریہ وزاری کے ساتھ یہ دعا کی یا وہ دعا کی اور جہاں تک ان کے اپنے مانتوں سے تعلق کا سوال ہے یا اپنے ہم جنسوں ، دوسروں سے تعلق کا سوال ہے انہی معاملات میں وہ ان سے زیادتی کر جاتے ہیں۔مثلاً کئی ایسے ہیں جو غربت کا شکوہ کرتے ہیں کہتے ہیں ہم نے بہت خدا کے حضور گریہ وزاری کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور واقعہ یہ ہے کہ بہت سے ان میں ایسے ہیں جن کی بعض دفعہ یہ کمزوریاں پوشیدہ رہ جاتی ہیں، ان پرستاری کا پردہ پڑا رہتا ہے۔بعض ان میں سے ایسے ہیں جن کی کمزوریاں لوگوں کے سامنے کھلیں یا نہ کھلیں میرے