خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 595
خطبات طاہر جلد 13 595 خطبہ جمعہ فرمودہ 12 /اگست 1994ء فكافئوه، فان لم تجدوا ما تكافئونه به فادعوا له حتى تروا انكم قد كافاتموه۔(ابوداؤد کتاب الزكاة حديث نمبر : 1672) حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگتا ہے اس کو پناہ دو اور جو شخص اللہ کا نام لے کر مانگتا ہے اسے کچھ نہ کچھ ضرور دو اور جو شخص دعوت کے لئے بلاتا ہے اس کی دعوت قبول کرو۔جو شخص تم سے نیک سلوک کرتا ہے اس کے اس نیک سلوک کا بدلہ کسی نہ کسی رنگ میں ضرور دو۔اگر بدلہ دینے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو اتنی دعا کرو کہ تمہارا دل مطمئن ہو جائے کہ گویا تم نے بدلہ ادا کر دیا ہے۔بہت ہی پیارا کلام ہے بہت ہی تفصیل سے باریکی میں اتر کر مضمون کو سمجھایا گیا ہے کہ دعا محض کر دینا کہ ٹھیک ہے جزاک اللہ کہہ کر الگ ہو جائیں یہ کافی نہیں ہے جب تک دل مطمئن نہ ہو کہ میرے دل سے بوجھ اتر گیا ہے اور اپنے بھائی کی میں نے دعا سے اتنی خدمت کر دی ہے کہ اللہ ضرور اس کا فیض اس کو پہنچائے گا اس وقت تک دعا سے رکنا نہیں ، تمہارا حق ادا نہیں ہو گا۔اس حدیث میں چھوٹی چھوٹی کئی باتیں ہیں ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ قریب سے دیکھنا ضروری ہے۔الله جو اللہ کے نام پر پناہ چاہے اسے تم پناہ دو۔اللہ کے نام پر پناہ چاہنے والے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو خدا کے دشمن رہے ہوں اور ان پر یہ مضمون بلا استثناء صادق نہیں آتا۔کئی ایسے بھی تھے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جنہوں نے تمام عمر دشمنی میں گزاری اور بعد میں پناہ مانگی توان کو پناہ نہیں دی گئی۔بعضوں کو بعد میں پناہ دے دی گئی مگر بعضوں کو وطن چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف بھاگنا پڑا تو اللہ کے نام پر پناہ مانگنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر شخص کو بلا استثناء ضرور پناہ دو عام حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ضرورت مند محتاج ہے اس کو کہیں کسی کے شر سے پناہ نہیں مل رہی اور پناہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے گھر میں جگہ دو کیونکہ اگر یہ مضمون ہوتو پھر دنیا کا ہر گھر گھر والوں کے سوا ہر ایک دوسرے سے بھر جائے۔اس لئے حدیث کو اس کے محل اور موقع کے مطابق سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔پناہ سے مراد ہے کسی شر سے پناہ، کسی فتنے سے پناہ۔پس ایک شخص کسی بڑے آدمی کے مظالم کا شکار ہے۔وہ کسی کے پاس پناہ لینے آتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ جتنی اس کو طاقت ہے اس کی حمایت