خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 582
خطبات طاہر جلد 13 582 خطبه جمعه فرموده 5 راگست 1994ء اختیار۔اور تقویٰ کا حق ادا کرنا اتنا مشکل کام ہے کہ زندگی کا ہر لحہ جب بھی موت آئے انسان خدا کے حضور مسلمان لکھا ہو۔پس تقویٰ کی باتیں کرنا آسان ہے، تقویٰ کا حق ادا کرنا بہت مشکل ہے اور اس ضمن میں بھی میں دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔کروڑوں احمدی ہو جائیں گے عنقریب انشاء اللہ لیکن اب کروڑ ہیں یا لکھوکھہا ہیں اللہ بہتر جانتا ہے مگر ان سب کے لئے یہ ناممکن ہے یعنی جو میں حالات دیکھ رہا ہوں بالکل ناممکن دکھائی دیتا ہے کہ ہر شخص ایسی زندگی گزار رہا ہو کہ جس لمحے موت آئے اسلام پر موت آئے۔بڑا مشکل مطالبہ ہے۔مگر ایک مطالبہ ہم بھی تو کر سکتے ہیں خدا سے اور وہ بجز کا مطالبہ ہے ایک عاجزانہ مطالبہ ہے اور وہ یہ ہے کہ موت دینا تیرے قبضے میں ہے۔مرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔نہ ہماری زندگی ہمارے اختیار میں نہ ہماری موت اختیار میں۔تو تو یوں کر۔ایسا فضل فرما کہ جس حالت میں ہم مسلمان ہوں اسی حالت میں وفات دینا اس کے سوا وفات نہ دینا۔پس یہ تقویٰ کی شرط عجز کے ساتھ پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے اس کے بغیر ناممکن دکھائی دیتی ہے۔پس اس عاجزی کے ساتھ اگر آپ خدا کے حضور ہمیشہ دعا کرتے رہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے اکثر لمحے ایسے گذر رہے ہیں یا کم لمحے ایسے گزر رہے ہیں جن میں ہم حقیقت میں مسلمان نہیں رہتے۔تو بہتر جانتا ہے مگر اگر چند لمحے بھی تیرے حضور ایسے آئیں کہ جب ہم تیری نگاہ میں مسلمان ٹھہر تے ہوں تو اے خدا اس وقت ہمیں وفات دینا ہمارے ظلم کے لمحوں میں ہمیں وفات نہ دینا۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا یہ اسی حَقَّ تُقتِہ کی اگلی تفسیر ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور اکٹھے ہو کر تھامے رکھو و لَا تَفَرَّقُوا اور ہر گز تفرقہ اختیار نہ کرو۔اللہ کی رسی کے متعلق میں پہلے بھی وضاحت سے بار بار بیان کر چکا ہوں اصل حبل اللہ تو وحی الہی ہے جو کتاب کی صورت میں نازل ہوتی ہے اور پھر یہ وحی ایسی ہے جس پر نازل ہوتی ہے اس کو مجسم حبل اللہ بنا دیتی ہے۔پس بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حبل اللہ سے تو قرآن مراد ہے آپ رسول بھی مراد لے لیتے ہیں مگر میں زیادہ بہتر سمجھتا ہوں اس بات کو کہ حقیقت قرآن کو براہ راست ہاتھ مارنا ممکن نہیں ہے جب تک رسول کی وساطت سے جو زندہ قرآن ہے قرآن پر انسان اپنا ہاتھ نہ مارے اور اسے پکڑ نہ لے اور تفصیل قرآن کی براہ راست تو کسی کو معلوم ہوتی ہی نہیں اور جو براہِ راست قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اگر