خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 583
خطبات طاہر جلد 13 583 خطبه جمعه فرموده 5 را گست 1994ء ا الله خدا سے فیض یافتہ نہ ہوں تو اسی قرآن سے تفرقے کی باتیں نکال لیتے ہیں بجائے اس کے کہ اکٹھے ہونے کی باتیں سیکھیں۔پس حضرت محمد مصطفی سے ہی وہ زندہ قرآن ہیں جن پر ہمیشہ مضبوطی سے ہاتھ رہنا چاہئے۔یعنی آپ کے قدموں پر یہ ہاتھ ایسے پڑیں کہ پھر کبھی ان سے جدا نہ ہوں اور آپ کی پیروی میں حبل اللہ کی پیروی ہے۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی سیرت پر نظر رکھنا اور اپنی زندگی کے ہر لمحے پر اس سیرت کو جاری کرنا ہی یہ حَقَّ تُقتِہ کا مضمون ہے جو پہلی آیت کے مضمون سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔یعنی کس طرح آپ کو پتا چلے گا کہ آپ کا ہر لمحہ مسلمان ہے اگر محد رسول اللہ ﷺ کی سنت پر ہے تو یقیناً مسلمان ہے اگر اس سیرت سے ہٹ کر ہے تو مسلمان لمحہ نہیں ہے پس ان دو آیتوں میں بظاہر دوری دکھائی دیتی ہے۔بے تعلق مضمون ہے۔لیکن ہرگز بے تعلق نہیں بعینہ وہی مضمون ہے جو دوسرے رنگ میں بیان ہو رہا ہے وَ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا ایک ہی مضمون کی دو شکلیں ہیں اور پھر اس کے ساتھ ایک عجیب نصیحت فرمائی گئی وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ اور اللہ کی نعمت کو یاد رکھنا۔پس وہ لوگ جو اس بات پر ضد کرتے ہیں کہ نہیں محمد رسول الله جبل اللہ نہیں ہیں بلکہ قرآن ہے ان کی جہالت ہے کیونکہ حبل اللہ کی تشریح یہ فرمائی وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ تم اللہ کی نعمت کو یاد کرو اور نعمت رسول ہی ہوا کرتا ہے۔رسالت ہی نعمت ہے اور قرآن کریم نے انعامات میں سب سے بڑا انعام رسالت کو بیان فرمایا ہے پس حضرت محمد مصطفی ﷺ وہ نعمت ہیں جن کو یاد کرنا چاہئے۔اذ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا جب تم آپس میں پھٹے ہوئے ایک دوسرے کے دشمن تھے ایک صلى الله دوسرے سے جدا جدا تھے۔یاد کرو کہ اللہ نے اپنی نعمت کے ذریعے تمہیں ایک ہاتھ پر اکٹھا کیا ہے۔میں نے پہلے بھی اس غلط فہمی کو دور کیا تھا کہ بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تو چاہتا اور سب کچھ جو زمین میں ہے سب بھی خرچ کر دیتا تب بھی ان کو اکٹھا نہیں کر سکتا تھا۔یہ محض اللہ ہے جس نے دلوں کو باندھا ہے تو اس آیت کا اس مضمون سے کہیں تضاد تو نہیں جو میں نے ابھی بیان کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی تضاد نہیں کہ محمد رسول اللہ لہ ذاتی طور پر تمام عرب کو اکٹھا کرنے ، ایک ہاتھ پر جمع کرنے کی