خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 581 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 581

خطبات طاہر جلد 13 581 خطبه جمعه فرموده 5 اگست 1994ء مبلغ سلسلہ تاشقند۔ناصر احمد خان صاحب فرانس، سیف الحق صاحب اور ملک لطیف خالد صاحب او بر ہاوزن جرمنی۔جرمنی سے تو کئی فون آئے تھے مگر یہ ایک صرف نام لکھا ہوا ہے یہاں محمد رافع قریشی صاحب تحکیم ، ملک سجاد احمد صاحب اور فریحہ احمد صاحب کینیڈا، اور کینیڈا سے میں نے ملک لال خان صاحب کا نام تو اس وقت سنایا تھا مگر ان کا مجھے فیکس ملا ہے کہ وہ آپ کو ٹیلی پیتھک رابطے سے میرا نام ملا ہوگا کیونکہ میرا فون نہیں مل سکا تو ان سے میری ٹیلی پیتھی چلی ہے کئی دفعہ ایسا ہوا جب جاپان ہوا کرتے تھے تو ہم نے تجربہ کیا ٹیلی پیتھی کا۔پرانے زمانے کی بات کر رہا ہوں۔تو اس وقت ٹیلی پیتھی کے ذریعے میں ان کو بعض پیغام دیا کرتا تھا ان کی طرف سے بعد میں فون آ کر کنفرمیشن ہو جاتی تھی کہ ہاں آپ نے فلاں وقت مجھے یاد کیا تھا میں کہتا تھا ہاں کیا ہے ، تو اس طرح چلتا تھا۔تو چنانچہ انہوں نے مذاق میں وہی بات لکھی ہے کہ میرا فون تو آپ کو نہیں ملا پھر آپ نے جو ذکر کیا وہ ٹیلی پیتھک فون ملا ہو گا۔شیخ الطاف الرحمن صاحب سویڈن۔زیڈ اے پونتو صاحب انڈونیشیا۔رفیع جنرل سیکرٹری صاحب نیویارک جماعت اور راشدہ فیضی صاحبہ یہ نارتھ کیرولینا سے۔پیغام تو بہت سے ہیں اور اب آتے بھی رہیں گے مگر اب زیادہ ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔تو میں یہ بتارہا تھا کہ جو سب سے زیادہ لطف اس جلسے پر آیا ہے وہ اجتماعیت کے ایک ایسے نظارے سے آیا ہے جو آسمان سے اترا تھا اس میں زمینی کوششوں کا کوئی دخل نہیں تھا اور بتایا جا رہا تھا کہ یہ عالمی جماعت ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے ہاتھ پر کل عالم کو اکٹھا کرنے کے لئے بنائی جا رہی ہے اور اس طرح تم ایک وجود بن گئے ہو۔اس ایک وجود کی حفاظت کی خاطر میں آج آپ کو ان قرآنی آیات کے حوالے سے نصیحت کرتا ہوں جن کی تلاوت میں نے کی ہے (سورۃ آل عمران آیت 103 تا106 )۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ کہ اے مومنو! اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ کا حق ہے اور تقویٰ کا حق کیا ہے؟ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ کہ مرنا نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم مسلمان ہو۔اب اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر لحظہ مسلمان رہو کیونکہ موت کی نہ ہمیں خبر نہ ہمارا