خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 580
خطبات طاہر جلد 13 ایک وجود میں رخنہ پیدا کر سکے۔580 خطبه جمعه فرموده 5 راگست 1994 ء لیکن اس سے پہلے میں ایک دو اور ذکر کرنا چاہتا ہوں، جب ٹیلیفون دنیا بھر سے آرہے تھے تو کیونکہ لائنیں تھوڑی تھیں اس لئے مکمل طور پر وہ لائنیں جام ہو چکی تھیں اور جسوال برادران نے بڑی حکمت سے کام لیا کہ لمبی بات نہیں کرتے تھے فوڑ اوا پس فون رکھتے تھے اور کہتے ہیں جب رکھتے تھے تو گھنٹی بج رہی ہوتی تھی یعنی مسلسل گھنٹی بجی ہے اور بعد میں مجھے فونوں پر اور خطوں کے ذریعے بھی لوگوں کے پیغامات ملے اور اپنی بے کسی اور بے بسی کا اظہار کیا کہ کس طرح ہم مسلسل فون پر بیٹھے رہے ہیں لیکن کوئی پیش نہیں گئی۔ایک نے مجھے لکھا ہے کہ اسلام آباد میں جو ایکسچینج ہے اس کے ذریعے میں نے کوشش کی تو اس نے کہا یہ ہو کیا رہا ہے کیونکہ ہر جگہ سے مجھ پر اتنا دباؤ ہے کہ فور أملا دو اور آگے لائنیں جام ہوئی ہوئی ہیں آگے سے اٹھاتا کوئی نہیں۔مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔اس نے کہا چلیں میں اسی کو بتا دوں۔اس نے اس کو سمجھایا کہ یہ واقعہ ہورہا ہے اس پر وہ ٹیلیفون والا بھی حیرت میں مبتلا ہو گیا یہ عجیب بات ہے اتنا زیادہ دنیا سے وہاں فونوں کا دباؤ ہے۔مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ جن جماعتوں کو توفیق نہیں مل سکی تھی یا جن خاص محبت کرنے والوں کو توفیق نہیں مل سکی تھی میں ان کے چند نام آپ کو پڑھ کے سنا دیتا ہوں۔سب سے پہلے تو ناظر صاحب اعلیٰ ربوہ۔وہ کہتے ہیں میں آپ کا نام سنتا تھا بے قرار ہوتا تھا ، آدمی مقرر کیا ہوا تھا مسلسل بیٹھا ہوا تھا وہ، لیکن کچھ پیش نہیں جا رہی تھی فون ہوتا ہی نہیں تھایا ہوتا تھا تو Engage ہوتا تھا۔دوسرے ناظر صاحب اصلاح وارشاد کا ربوہ سے یہی پیغام ملا ہے ہمارے منگل صاحب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کا بھی یہی پیغام ملا ہے۔صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ حضرت ام متین کا بھی اسی طرح بے قراری کا پیغام ملا ہے۔جماعت احمدیہ سیرالیون کی طرف سے پیغام ملا ہے کہ ہم تو مسلسل کوشش کر رہے تھے لیکن آپ تک بات نہیں پہنچ پارہی تھی۔ضیاء اللہ مبشر ریجنل صدر ٹوکیو ریجن۔جاپان کا ذکر تو آ گیا تھا مگر یہ کہتے ہیں میں اپنے ریجن کی طرف سے بھی کوشش کر رہا تھا جماعت احمد یہ لین اور بوریمی سلطنت عمان ، ان کا بھی اسی طرح کا اظہار ہے۔حیدر آبادسندھ کی طرف سے اور فضل عمر ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر صاحب کی طرف سے۔سید سجاد احمد اور سید طاہر احمدی ”کوما کی جاپان سے اور میری ہمشیرہ عزیزہ امتہ الباسط کی طرف سے بھی فیکس تفصیلی ملی ہے کہ بہت برا حال رہا ہم تو فون کر کر کے تھک گئے کوئی پیش نہیں جاتی تھی۔منصور احمد