خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد 13 579 خطبه جمعه فرموده 5 را گست 1994ء اس کے کہ خدا کے حضور جھکیں غلط مفہوم اپنی عظمت کے ان سروں میں سما جائیں گے اور انہیں پاگل کر دیں گے۔پس اس بات کی فکر کریں اور اپنے گھروں میں بھی جب ان باتوں کی لذتوں کا ذکر کریں تو اللہ کے حوالے سے، حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے حوالے سے اور اپنی عاجزی کے حوالے سے ذکر کریں۔ہر چند کہ ہم حق دار نہیں تھے عجیب اللہ کی شان ہے کہ عظیم وعدے ہمارے ذریعے پورے ہو رہے ہیں اور ہمارے زمانے میں پورے ہو رہے ہیں۔اس انکسار کی آپ حفاظت کریں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خدا کا وعدہ ہے کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں اور یہ ایسا وعدہ ہے جو ہمیشہ آپ کی ذات میں پورا ہوتا رہے گا اور یہی ایک حقیقی بجز ہے جو بناوٹی نہیں بلکہ حقیقی ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔یہ حقیقی بجز ہے اگر اس عجز کی حقیقت کو آپ پہچان جائیں اور جان لیں کہ واقعہ یہی حالت ہماری ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں تو پھر آپ دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کتنے بڑھ چڑھ کر ہمیشہ آئیں گے اور ہماری عقلوں کو اپنی قوت اور عظمت اور شوکت اور جلال اور جمال کے ساتھ وقتی طور پر گویا ماؤف کر دیا کریں گے۔بعض دفعہ جب غیر معمولی چمکار ہوتی ہے جلووں کی، تو آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں پھر مزید دیکھنے کی طاقت نہیں رہتی۔بعض دفعہ دماغ وقتی طور پر معمولی جلال اور شان کے اظہار سے ماؤف ہو جاتے ہیں یعنی ان کے اندروہ مزید طاقت نہیں رہتی کہ وہ اس بات کو سمجھ سکیں ،ہمٹا سکیں اپنے تھوڑے لفظوں میں اس کو سماسکیں۔پس اس پہلو سے میں امید بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ انشاء اللہ اپنے عجز کی حفاظت کرتی رہے گی تو خدا تعالیٰ ان پر بے شمار فضل نازل فرماتا رہے گا۔اس ضمن میں میں خصوصیت سے آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اکٹھے رہیں آپ نے ایک اجتماع کا مرکز دیکھا تھا اور اجتماعیت کا جو نظارہ آپ کے علم میں تھا مگر اس طرح آنکھوں کے سامنے نہیں ہورہا تھا جب آنکھوں کے سامنے ابھرا ہے تب آپ کو معلوم ہوا ہے کہ ایک ہاتھ پر، ایک مرکز پر اکٹھا ہونا کس کو کہتے ہیں اور کیسا عظیم روحانی لطف اس چیز میں ہے۔اس لئے آج جو میں نے آپ کے سامنے آیت تلاوت کی ہے اس کا اس مضمون سے تعلق ہے کہ آپ اپنی اجتماعیت کی حفاظت کریں ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہیں، چھٹے رہیں، کوئی ایسی بات نہ کریں جو کسی طرح بھی جماعت کے