خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 51
خطبات طاہر جلد 13 51 خطبه جمعه فرمودہ 21 جنوری 1994ء اندھے کو ایک بہت ہی خوب صورت وجود یا خوب صورت بندے کے سامنے لا بٹھاؤ، لا بٹھا ؤ لیکن وہ لذت حاصل نہیں کر سکے گا۔ یہ تو کافی نہیں کہ ایک بہرے کو ایک نہایت ہی خوب صورت اور دلکش محفل سماع میں پہنچا دو۔ وہ بت کا بت ، پتھر کا پتھر بیٹھا رہے گا۔ اس کو کچھ بھی پتا نہیں لگے گا کہ کیا ہورہا ہے۔ تو جنت کوئی ظاہری ایسا وجود نہیں ہے جہاں جو داخل ہو گیا اس کو مزہ آنا شروع ہو جائے گا ۔ ہم اپنی جنت کی خود تعمیر کرتے ہیں ۔ جتنا جتنا یہ روحانی صلاحیتوں کے ذرائع ترقی کے ذرائع ترقی کریں گے اتنا ہی ہماری جنت کا معیار بڑھتا چلا جائے گا۔ اگر ایک ہی چیز دو آدمی کھا رہے ہوتے ہیں۔ ایک کو کم مزہ آ رہا ہوتا ہے ایک کو زیادہ مزہ آ رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی شعر دو آدمی سن رہے ہوتے ہیں۔ ایک لطف سے ایسا مستی پاتا ہے گویا کہ وہ آسمانوں میں اڑ رہا ہے۔ اس کی کیفیت ہی اور ہو جاتی ہے۔ اسے بعض شعر زمین کی سطح سے بلند رفعتوں پر پہنچا دیتی ہیں اور ایک آدمی سنتا ہے اور اسے کچھ پہلے نہیں پڑتا کہ کیا ہو رہا ہے کیا بات ہے۔ وہیں بت کا بت زمین پر بیٹھا رہتا ہے۔ شعر اس کے سر کے اوپر سے گزر جاتا ہے یا ایک طرف سے آتا ہے، دوسری طرف سے نکل جاتا ہے، پتا نہیں اس کو کہ کیا بات ہو رہی ہے۔ اب وہ ایک خاص دائرے میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ وہاں جس کو چاہیں لے جائیں ہر ایک کا ما حصل مختلف رہے گا۔ بعض شعری مجلس میں جا کر سزا پاتے ہیں۔ کہ پتہ نہیں یہ کیا بکواس ہو رہی ہے۔ جھوم جھوم کے ایک آدمی کچھ باتیں کر رہا ہے۔ لوگ دادیں دے رہے ہیں۔ پاگل ہوئے ہوئے ہیں یہ سارے، کہنے والا بھی پاگل سننے والے بھی پاگل ۔ اصل میں وہ خود پاگل ہوتا ہے، اس کو پتا نہیں کہ کیا تو سے ہو رہا ہے۔ تو اس لئے جو لذتوں کے حصول کے ذرائع ہیں۔ وہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان سے ہی جنتیں بنتی ہیں ان سے ہی دوز خیں بنتی ہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کی جنت الگ ہے اور ہر شخص کی دوزخ الگ ہے۔ پس محض دعا ئیں کرنا کہ اے اللہ ہمیں اعلی علیین میں پہنچادے۔ ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قدموں میں جگہ دے۔ ہمیں اپنے پیاروں سے ملا دے۔ بے کار ہے اگر ان باتوں کی کوئی تیاری نہ کی گئی ہو تو اندھا کہہ سکتا ہے اے خدا اے خدا! ہمیں دنیا کی سب سے خوب صورت جگہ پہ پہنچا دے۔ سب سے زیادہ حسین وجود کے سامنے بٹھا دے۔ تو اللہ دعا قبول کرلے گا ؟ اگر چہ گریہ و زاری سے کرے گا ۔ مگر دعا کرنے والے کو کیا فائدہ؟ وہ اسی طرح اندھے کا اندھا ہی