خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 50
خطبات طاہر جلد 13 50 50 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /جنوری 1994ء ہو سکتی ہے۔تو پھر یہ جو کھانے پینے کی ، جنسی لذتیں وغیرہ یہ بالکل بے حقیقت، اس کے مقابل پر بے حقیقت اور بے معنی ہو جاتی ہیں اور اپنے اپنے دائرے میں ایک نیا احساس لذت پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہماری اعلیٰ لذات سے یہ مراد ہے۔بہت سے انسان تو ہیں جن کو ادفی لذات سے باہر نکل کر سوچنے کا موقع ہی کبھی نہیں ملا۔یہ کلام ایک عارف باللہ کا کلام ہے۔ناممکن ہے کہ ایک عارف باللہ جو خدا کی محبت میں ڈوبا ہوا ہو اس کے سواء کسی کا تصور بھی اس بات تک نہیں پہنچ سکتا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس ایک جملے میں فرما دیئے ہیں۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔وہ کون سی اعلیٰ لذات ہیں۔وہ یہی لذات کا روحانی سفر ہے، جو انسان کے مقام پر پہنچنے کے بعد پھر آگے بڑھتا ہے اور اس سفر کا اختتام مرنے کے ساتھ نہیں ہو جاتا۔قرآنِ کریم بتاتا ہے کہ مرنے کے بعد اس سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ان معنوں میں جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ بن رہا ہوتا ہے۔اور ایک لمبا سفر نو مہینے کے عرصے میں طے کرتا ہے۔نو مہینے کا عرصہ تو تھوڑا ہے۔لیکن یہ جو وہ سفر کرتا ہے۔وہ ساری زندگی کا سفر ہے، جود ہرایا جا رہا ہے اس کے اندر، یعنی ماں کے پیٹ کے اندر، بچے کی ذات میں، یہ سفر د ہرایا جاتا ہے۔یہ بھی ایک لمبی تفصیل ہے۔جس میں اس وقت جانا مناسب نہیں۔مختصر ا آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ سفر، جو روحانی سفر خدا کی جانب ہے اور الہی تعلق کی لذات حاصل کرنے کی تمنا کے سہارے چلتا ہے۔یہی وہ سفر ہے جس نے ہماری جنت کی صلاحیتیں پیدا کرنی ہیں۔ورنہ یہ وہم ہے کہ ہم جنت میں چلے جائیں گے۔جنت میں جانے کی وہ تیاری جس سے جنت کی لذتیں محسوس کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے وہ تیاری کئے بغیر ، اس صلاحیت کے بغیر کس سے آپ مزہ اٹھالیں گے۔ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی آنکھیں نہیں ہیں۔بغیر آنکھوں کے وہ وہ لذتیں کیسے پا سکتا ہے جو آپ آنکھوں والے حاصل کر رہے ہیں۔ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں اس وقت اور دنیا کے باہر جب نکلتے ہیں نظارے دیکھتے ہیں رنگوں کی تمیز کرتے ہیں۔حسن کو پہچانتے ہیں اور اس سے ایک لذت پاتے ہیں۔ہر قسم کے حسن سے لذت پانے کے وہ ذرائع جو آنکھ کو میسر ہیں ان کا تعلق ایک لذت یابی سے ہے۔اندھے بے چارے کو پتا ہی کچھ نہیں۔اسی طرح سماعی لذتیں ہیں۔جس کو کان نصیب نہیں ہوئے اس کو کیا پتا کہ یہ کیا لذتیں ہیں۔تم ، یہ تو محض کافی نہیں کہ ایک