خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد 13 66 52 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء ہے۔پس یہ جو روحانی سفر ہے اس کے متعلق یاد رکھیں کہ آپ کی تمام مادی لذات بعض صورتوں میں بڑی بھیا نک دکھائی دیتی ہیں۔مگر ان سب کا منبع ، ان سب کا مبداء اللہ کی ذات ہے۔اور آغاز میں یہ بہت ہی پاکیزہ ہیں اور گہری حکمتیں ان سے وابستہ ہیں اور آخری حکمت کی بات یہ ہے۔کہ ان سب کا تعلق اس ”انا“ سے ہے۔اللہ کی ذات سے آپ میں منعکس ہوئی۔اور اس نے ایک بہت لمبا سفر اختیار کیا۔جب آپ کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ منبع حسین ہے اور باقی سب لذتیں۔اس منبعے کی عطا ہیں۔تو اس طرف جو لوٹنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔وہ سفر ہے جو مرجع کا سفر بن جاتا ہے۔پس آخری دائرہ وہی ہے جو انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ میں بیان فرمایا گیا ہے۔کہ اللہ ہی سے سفر کا آغاز ہوتا ہے اور اللہ پر ہی سفر جا کر ختم ہوتا ہے۔وہ لوگ جن کا سفر اندھا شروع ہو اور اندھا ہی ختم ہو ان کو مرنے کے بعد کسی لذت کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔وہ جو باشعوری طور پر دل میں وقتا فوقتا اپنے جذبات میں ایک ہیجان اٹھتا ہوا دیکھتے ہیں۔وہ اللہ کی طرف اپنے وجود کو لپکتا ہوا پاتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ ذات، وہ پاک اور بلند تر ذات جس تک ہمارا تصور بھی نہیں پہنچتا اس طرف جانے کی تمنا میرے دل میں پیدا ہورہی ہے اور اس کی طرف میری روح حرکت کر رہی ہے۔یہ وہ تمنا ہے جو رفتہ رفتہ آپ کو لا ز ما وہ روحانی اعصاب عطا کر دے گی جن اعصاب کے ذریعے واقعہ آپ غیر معمولی لذت حاصل کریں گے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد روح کو ایک جسم عطا کیا جائے گا۔ایک عام آدمی سوچتا ہے کہ کیا ضرورت ہے روح کو ایک جسم عطا کرنے کی ، ایک جسم سے چھٹکارا ملا، ایک اور جسم عطا ہو گیا۔بات یہ ہے کہ روح کا جو شعور ہے وہ ایک غیر منقسم شعور ہے۔اس میں کسی قسم کی کوئی شعور کے اندر ایسے مختلف قسم کے حصے نہیں ہیں کہ اس شعور کو آپ تقسیم کر سکتے ہوں کہ یہ حصہ فلاں چیز سے تعلق رکھتا ہے یہ فلاں چیز سے تعلق رکھتا ہے۔ہر شعور اپنے آخری شکل میں غیر منقسم ہے۔اس لئے کہ وہ توحید کا عطا ہوا ہے۔”آنا کا الف ایک ہی ہے۔اور اسے آپ تقسیم اور نہیں کر سکتے۔لیکن تقسیم ہوئے بغیر اس سے پھر آگے صفات پھوٹتی ہیں۔پس جس طرح ہم کہتے ہیں کہ الم ، أَنَا اللهُ اَعْلَمُ یہ بھی کہا جا سکتا ہے۔کہ الف سے مراد ”انا“ ہو اور لام سے اللہ ہو اور میم سے رحمن اور رحیم ہوں۔کیونکہ رحمانیت سے ہی ہر چیز کا آغاز ہوا ہے اور ربوبیت دراصل رحمانیت اور