خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد 13 49 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جنوری 1994ء سے اس تعلق کو تقویت دیتے ہیں۔وہ وقت جب آپ کو واقعہ اللہ کے پیار میں لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔وہ جب واقعہ آپ سمجھتے ہیں کہ ہماری بقاء کا آغاز تو اللہ ہی سے ہے اور اسی کے سہارے ہوا ہے مسلسل، اور ہم نادانی میں اس بات کو بھولے رہے۔پھر جب آپ خدا سے ایک نئی طاقت پاتے ہیں، ایک نئی رفاقت نصیب ہوتی ہے وہ آپ کو ایک روحانی لذت بخشتی ہے۔یہی وہ روحانی لذت ہے جو مرنے کے بعد جی اٹھنے سے پہلے پہلے اسی طرح ایک لمبا سفر کرے گی۔جس طرح انسانی زندگی یا حیوانی زندگی نے سفر کر کے بعض لذتوں کو متعین طور پر محسوس کرنے کے ذرائع حاصل کر لئے۔وہ روحانی وجود جو جنت کے مقام تک پہنچتے پہنچتے آپ کو عطا ہو گا وہ روح کا یہ سفر ہے جس کے دوران آپ کو یہ عطا ہوگا۔اس سفر پر بھیجنے کے لئے آپ نے اپنی زندگی میں کچھ کام کرنے ہیں۔اگر اپنی زندگی میں اس سفر کی تیاری نہ کی تو زادراہ کے بغیر جو سفر ہے وہ تو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔اسی طرح گنہگار لوگ جن کی اپنے اپنے وجود کی ہر ایک کی ایک جہنم ہوتی ہے اس لئے میں کہتا ہوں اپنی جہنم تک پہنچنے تک جو سفر اختیار کرتے ہیں۔اس سفر تک پہنچنے کے لئے ان کو اسی طرح منفی اعصاب نصیب ہوتے ہیں۔جس طرح درد اور تکلیف کو محسوس کرنے کے لئے ہمیں زندگی کے سفر میں منفی اعصاب نصیب ہوئے تھے۔اور وہ منفی اعصاب جہنم تک پہنچنے تک ان کے اندر غیر معمولی تکلیف کے احساس کی طاقت پیدا کر چکے ہوتے ہیں۔پس خدا سے دوری کا سفر در اصل وہ جہنم کی جانب سفر ہے جس میں ایک لمبے عرصے میں، جس کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ کب تک کا ہوگا۔رفتہ رفتہ ہماری روح کو وہ شعور نصیب ہو جائے گا کہ وہ اپنی حماقتوں کے نتیجے میں جو کچھ کھویا ہے اس کی تکلیف محسوس کریں اور تکلیف کھونے کا نام ہے۔بقاء کے خلاف جو کوئی چیز بھی آپ پر عمل دکھاتی ہے وہی تکلیف ہے۔اور بقاء کے حق میں جو طاقتیں آپ پر عمل کر رہیں ہیں وہی لذتیں ہیں۔تو آخری Analysis میں نہ کوئی جسمانی لذت ہے، نہ کوئی جنسی لذت ہے، نہ کوئی کھانے کی لذت ہے، نہ کوئی سردی گرمی کا مزہ ہے۔سارے مزے ”انا“ تک پہنچتے ہیں اور اس ”ان “ میں جب کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے بہت لمبے سفر کئے مگر پھر بھی کافی نہیں ہے۔مزید کی تمنا اسی طرح باقی ہے، پھر بھی پیاس ہے، جو نا ختم ہونے والی ہے۔وہ وقت ہے شعور کا، جب اللہ کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور انسان جان لیتا ہے کہ بقاء تو اسی کی ذات میں ہے اسی کی رفاقت میں ہے۔اور ہمیشہ کی زندگی بھی اسی سے نصیب