خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 48
خطبات طاہر جلد 13 48 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /جنوری 1994ء میں گزشتہ جمعے، میں کہہ چکا ہوں ان کے حوالے سے آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔جس طرح مادی ترقی نے ”انا“ کے سہارے ایک بہت لمبا سفر طے کیا۔اسی طرح روحانی ترقی میں بھی یہی آنا ہے 66 66 جو ایک سفر میں آپ کی مددگار اور معین ہو جاتی ہے آپ کو قدم قدم آگے بڑھاتی ہے۔مادی ترقیات میں آنا “ نے کانشس رول ادا نہیں کیا۔یعنی با شعور طور پر ”انا“ میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی کہ وہ آپ کو وہ چیز میں عطا کرسکتی۔جو آپ کی لذت کے پیمانے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہے جس نے اپنی ”انا“ سے یہ سب چیزیں آپ کو عطا کیں ہیں اور آپ کو سمجھانے کی خاطر کہ لذت کیا ہوتی ہے اور کیوں ہوتی ہے۔جب آپ انسان کی سطح پر پہنچ جاتے ہیں اور حواس خمسہ پوری طرح مکمل اور تیار ہو جاتے ہیں۔تو یہ وہ وقت ہے جس سے خلقِ آخر کا وقت کہا جاتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے شعلہ الہام نازل ہو سکتا ہے اور آپ کی صلاحیتیں اتنی ترقی کر چکی ہیں کہ آپ ماوراء کسی چیز کا تصور کر سکتے ہیں۔یعنی مادے سے ماوراء، مادے سے پرلی طرف کی دنیا کی بھی تصور کرنے کی اہلیت اختیار کر جاتے ہیں۔پھر شعور جوں جوں بیدار ہوتا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ہماری بقاء، یہ جو ہمیں لذتیں بخشی ہیں۔یہ بقاء تو ایک عارضی سی بے معنی سی بقاء ہے۔اصل بقاء اس بات میں ہے کہ بقاء کے سرچشمے میں اپنے آپ کو کھو دیں۔قطرہ سمندر کی طرف واپس لوٹ جائے۔وہ جو مبداء تھا وہ مرجع بن جائے۔جہاں سے ہم نکلے تھے اس میں ڈوب جائیں۔اور یہ احساس پوری طرح عرفانِ الہی سے نصیب ہوتا ہے جو کلام الہی کے پڑھنے سے اور عارف باللہ کے تعلقات سے محض نصیب ہوتا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جو حقیقت میں مذہب کا مضمون ہے اور مذہب کے سفر کی داستان یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ہم اپنی لذتوں کو اللہ کی طرف منتقل کرنے کا جہاد شروع کریں۔اللہ کی طرف منتقل کرنے کا جو سفر ہے۔یہ سفر ہی روحانی ترقی کا سفر ہے۔پس جس طرح بقاء کے احساس نے اور ان ذرائع نے جو بقا کو طاقت بخشتے تھے اور ہمیشہ رہنے کی تمنانے اور ان ذرائع نے جو ہمیشہ رہنے کی تمنا کو پورا کرنے میں مددگار تھے ہمیں مادی طور پر کچھ ایسے خلیے ، کچھ ایسے ذرائع آلات عطا کر دیئے جس کے ذریعے ہم ان لذتوں کو ایک مبہم لذت کے طور پر نہیں بلکہ معین لذتوں کے طور پر محسوس کر سکتے تھے۔اسی طرح روحانی زندگی میں جب آپ تعلق باللہ شروع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر