خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 531

خطبات طاہر جلد 13 531 خطبہ جمعہ فرمود و 22 جولائی 1994ء ہاں ہاں ہم تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتے رسول اللہ ﷺ کی تک۔کس نے ہتک کی تھی ؟ کس نے ہتک کرنے والوں کی حمایت کی تھی؟ کوئی ایسا واقعہ تو ہوا ہو۔بیان جس سے بعد میں کنارہ کشی اختیار کر لی گئی وہ یہ تھا کہ جو قانون ملک میں رائج ہے۔دفعہ 295 سی کے تابع اس کا غلط اطلاق ہم نہیں ہونے دیں گے اور یہ جو خطاب تھا یہ عیسائی دنیا سے تھا۔احمدیت کا کہیں اشارہ بھی کوئی ذکر اس میں نہیں تھا۔ایک عیسائی ملک میں جو عیسائیت میں سب سے زیادہ یورپ میں متشدد ہے یعنی آئر لینڈ وہاں یہ بیان دیا گیا تھا کہ دیکھو گھبراؤ نہیں۔یہ ہمارے جو قوانین ہیں آنحضرت ﷺ کی عزت کی حفاظت کے نام پر ، ان کی طرف ان کا رخ ہی نہیں ہے جو بے عزتی کرنے والے لوگ ہیں۔جو گستاخی کرتے ہیں ان سے ان قوانین کا کیا تعلق ہے، تمہیں کیا فکر ہے، جو عشق میں جان دینے والے ہیں یہ تو ان کے خلاف بنایا گیا ہے اس لئے حکومت اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ آئندہ کبھی کسی عیسائی کو اس قانون کے تابع نہیں پکڑا جائے گا۔یہ الفاظ نہیں تھے مفہوم یہ تھا جو سارے یورپ نے سمجھا اور مولویوں کو یہ وہم پیدا ہوا کہ کہیں عیسائیوں کی گردن چھوڑتے چھوڑتے یہ احمدیوں کی گردنیں نہ چھوڑ دیں۔اور صرف یہ مبحث تھا جس کے اوپر سارا شور پڑا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے اور میں اب بھی آگے جا کے ثابت کروں گا سب سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ناموس پر فدا ہونے والی جماعت احمد یہ ہے۔سب سے زیادہ ناموس مصطفی میں فدا اور عاشق اور دن رات درود بھیجنے والی اور تمام دنیا میں حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے اعلیٰ اور برتر مقام کو ثابت کرنے اور قائم کرنے والی جماعت احمدیہ ہے۔اس لئے جو مرضی کہتے پھریں یہ تو فرضی باتیں کہیں کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کا تو ان قوانین سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں اور آگے جا کر جیسے بات کھلے گی یہ سب فرضی قصے ہیں۔مگر مولویوں کے ہاتھ میں حکومت نے جماعت احمدیہ کی گردن تھما دی تھی یہ کہہ کر کہ مرتد کا قانون تو ہم بنا نہیں سکتے ، مجبوری ہے، بین الاقوامی قوانین اجازت نہیں دیتے اس لئے اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے جتنے احمدیوں کو چاہو متہم کر کے ان کو تختہ دار پر چڑھا دو۔اس میں حکومت تم سے تعاون کرے گی۔یہ سازش تھی جس کے متعلق ان کو وہم پیدا ہوا کہ کہیں حکومت اس سازش سے پھر نہ گئی ہو یعنی اپنا کردار ادا کرنے سے پھر نہ گئی ہو، اس پر انہوں نے شور ڈالا۔