خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 530
خطبات طاہر جلد 13 530 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 1994ء کر کے ایک طرف بیٹھے رہتے ہو اور کہتے ہو جی سیاست آزاد ہے۔اور جب جانتے ہو کہ وہ بے اصولیاں حد برداشت سے باہر چلی جائیں گی اور تمام حدود پھلانگ دیں گی پھر تمہیں موقع ملے گا اور تم پوری طرح آ کر ساری سیاست کی صف لپیٹ دو گے۔یہ وفا داری نہیں ہے۔یہ انصاف نہیں ہے۔فوج کا کام ہے اپنا دباؤ اس وقت ڈالے جبکہ بے حیائیاں ہو رہی ہوں جیسا کہ اب ہو رہی ہیں۔جو پاکستان میں نو را کشتی کھیلی جارہی ہے اس کا حقیقت میں مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔میں مثال کے طور پر آپ کے سامنے صورتحال رکھتا ہوں۔علماء کے بیانات پہلے سن لیجئے یہ جو دس پندرہ علماء ہیں جنہوں نے گھیراؤ کیا ہوا تھا سپریم کورٹ کا۔ہاں یہاں بھی ایک سوال اٹھتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا گھیراؤ ہوتو کوئی با اصول حکومت کیا کرتی ہے۔اگر سپریم کورٹ کا گھیراؤ ہواوراس گھیراؤ کے سامنے کوئی حکومت سرتسلیم خم کر دے تو اس کا مطلب ہے کہ آخری سہارا ملک کے بچاؤ کا بھی ہاتھ سے جاتا رہا کیونکہ سپریم کورٹ انصاف کی آخری ذمہ دار اور علمبردار ہے۔اگر اس پر چھوکرے دباؤ ڈال دیں یا داڑھی والے بچے دباؤ ڈال دیں اور حکومت برداشت کر جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی کوئی عزت، اس کے پاس انصاف کی کوئی ضمانت باقی نہیں رہی۔اور پھر سپریم کورٹ کے جز کو دیکھیں کہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔کسی عزت والے، غیرت والے ملک میں ایسے واقعات نہیں ہوا کرتے۔انگلستان ہو یا امریکہ ہو یا یورپ کا کوئی آزاد ملک ہو یا مشرق بعید کے آزاد اور عزت دار ملک جو ہیں وہاں یہ ناممکن ہے کہ ایسا واقعہ ہو، اگر دباؤ ڈالا جائے عدالت پر اور حکومت دخل اندازی نہ کرے اور دباؤ ڈالنے والوں کو سخت سزائیں نہ دے تو تمام حج ایسی صورت میں اپنی عدالتوں سے استعفیٰ دے کر باہر چلے جائیں گے اور خطرناک قسم کا عدلیہ بحران پیدا ہوسکتا ہے۔لیکن ہمارے ملک کے حجر بھی ماشاء اللہ آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں جوں تک نہیں رینگی سر پہ کہ کیا واقعہ ہو گیا ہے۔اور جہاں تک علماء کے بیانات کا تعلق ہے ان کو دیکھئے ذرا۔حکومت کو جان لینا چاہئے کہ توہین رسالت کے قوانین میں ترمیم کرنے والوں کے خلاف عوام خود تحریک چلائیں گے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کیونکہ عوام میں ابھی تک اتنی ہمت ہے کہ وہ حکمرانوں کے اس قسم کے مذموم ارادوں کو ناکام بنا دیں (بیان مولوی اعظم طارق۔روز نامہ جنگ لندن 12 / جولائی 1994 ء) سوال یہ ہے کہ وہ مذموم ارادے تھے کیا؟ معافیاں کس بات کی مانگی جارہی ہیں۔یہ اعلان کیوں ہو رہا ہے کہ