خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 532 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 532

خطبات طاہر جلد 13 532 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 1994ء پھر ایک بیان جاری ہوا قائم مقام امیر جماعت اسلامی کی طرف سے توہین رسالت کی سزا کے بارے میں وزیر اعظم واضح اعلان کریں کوئی بھی مسلمان اس سلسلے میں نرمی برداشت نہیں کر سکتا۔(حکومت) دوٹوک انداز میں واضح اعلان کرے کہ یہ جرم پہلے کی طرح قابل دست اندازی پولیس ہے اور اس کے مرتکب کی سزا موت ہوگی۔بیان چودھری رحمت الہی۔روزنامہ جنگ لندن 12 جولائی 1994ء) پھر اعلان تھا " توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔بعض شر پسند اپنی سیاست کو چمکانے کی خاطر توہین رسالت کی سزا کو ایشو بنا رہے ہیں۔“ ( بیان حافظ محمد سلیم۔روز نامہ مشرق لاہور 7 مئی 1994 ء ص 4۔پھر ایک ملاں کی طرف سے بیان تھا وزیر قانون توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ مولانا درخواستی کا اعلان تھا۔پھر اعلان تھا مولانا محمد اجمل صاحب کا اور سید نفیس شاہ بے شمار نام ہیں ان کا خلاصہ یہی ہے کہ اسلامی قوانین کو متنازع قرار دیا گیا تو تحریک چلائیں گئے (روز نامہ جنگ لندن۔19 دسمبر 1993ء) اقبال حیدر صاحب کے بیان پر رد عمل کے طور پر ملک میں ان کے سر کی قیمت لگ گئی اور چند لاکھ روپے میں وزیر قانون کا سر مارکیٹ میں بکنے لگا۔پھر اعلان کیا ” حکومت تو ہین رسالت کے قانون یا سزا میں تخفیف کا نہ ارادہ رکھتی ہے اور نہ ایسا کرنے کا سوچ سکتی ہے یہ وفاقی کابینہ کا بیان ہے پوری کیبنٹ بیٹھی ہے اور اس نے یہ اعلان کیا ہے اور خالد کھرل نے کہا کہ اقبال حیدر کی طرف جو بیان منسوب ہوا ہے من گھڑت ہے، وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اونچی سطح کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا‘ (روز نامہ جنگ لندن۔12 جولائی 1994ء)۔کیا حکم تھا کہ میں نے یہ بیان دیا بھی تھا کہ نہیں اور میری طرف یہ بیان منسوب ہوا ہے تو کیوں ہوا ہے اس کا کیا مطلب تھا۔عدالتی تحقیقات اگر ہوئی تھی تو ان اخباری نمائندوں سے بھی تو پوچھا جاتا جن کے سامنے یہ بیان دیا گیا تھا وہ جو اصل تحقیق کا ایک حصہ بنتے ہیں، ایک پارٹی ہیں ان کا کہیں ذکر ہی نہیں چلتا۔یہ تو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں بیان ہونا چاہئے تھا کہ وہ تحقیق کرے کہ آئر لینڈ کے اخبارات بچے بیانات دیتے بھی ہیں یا وہ پاکستانی اخبارات کی طرح کے ہیں۔پھر دفعہ 295 سی میں موت کی سزا تبدیل نہیں کی گئی موجودہ حکومت آئین اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے مطابق قادیانیوں کے بارے میں سابقہ پالیسی پر کار بند ہے ( روزنامہ جنگ لندن۔12 جولائی 1994 ء)۔یہ اعلانات ہیں کیبنٹ کے