خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد 13 516 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء بات مان لیں آپ کو ہمیشہ ہمیش کے لئے امیر المومنین بنالیں گے۔قوم کے صرف سیاسی راہنما ہی نہیں، مذہبی اور روحانی راہنما اور ایسے مذہبی اور روحانی راہنما جن کے متعلق ہم اعلان کریں گے کہ حضرت الله اقدس محمد مصطفی ﷺ کے وصال کے بعد سے آج تک ایسا عظیم راہنما پیدا نہیں ہوا۔اور پھر اس کے معا بعد جب علماء کا وفد پیش ہوا تو کیسی کیسی انہوں نے خوشامدیں کیں۔کیسی کیسی تعریفیں کیں اور کہا کہ وہ مسئلہ جسے چوٹی کے علماء اور ہمارے آباؤ واجداد حل نہ کر سکے اسے اے امیر المومنین تیری ایک جنبش قلم نے حل کر دیا۔بڑے بڑے زبر دست اداریے لکھے گئے اور ابھی وہ سیاہیاں سوکھی نہیں تھیں کہ بھٹو صاحب کے خلاف ایسی گندی تحریک چلائی گئی۔دیواریں ان کو گالیاں دیتے ہوئے کالی کر دی گئیں۔اسلام کا بدترین دشمن قرار دیا گیا اور وہ سیاسی تحریک جو بالآ خر اس مارشل لاء پر منتج ہوئی جس میں بد سے بدتر حکومت وجود میں آئی، وہ مارشل لاء انہی مولویوں کی تائید اور پوری طرح کوشش کے نتیجے میں ظاہر ہوا تھا اور سیاسی طاقتیں جو بھٹو صاحب کی مخالف تھیں وہ ان کے ساتھ لگی ہوئی تھیں۔پھر ضیاء کے دور میں بھی یہی ہوا۔کیسی کیسی تعریف کے پل باندھے گئے کہ اے قوم کے سردار! ، اے روحانی راہنما! بھٹو کے قدم جہاں رک گئے تھے اس منزل سے آگے تو بڑھا اور کوئی پرواہ نہیں کی کہ دنیا تجھے کیا کہتی ہے نہ تو نے امریکہ کا خوف کھایا نہ پاکستان میں احمدیوں کی جو بھی سیاسی طاقت تھی یا رعب پڑا ہوا تھا اس کی ایک ذرہ بھر بھی پرواہ کی اور اکیلا آگے بڑھا اور وہ کام کر گیا جو کبھی پہلے کوئی نہیں کر سکا تھا۔تو بھٹو صاحب سے ایک قدم آگے بڑھا دیا بلکہ کئی قدم آگے بڑھا دیا اور پھر جس طرح ان کا انجام ہوا جس طرح اس انجام سے پہلے ان کے خلاف تحریکات چلیں اور دیواروں پر ان کے متعلق جو لکھا گیا وہ آج بھی اہل پاکستان کو یاد ہو گا۔اس (نعوذ باللہ من ذالک ) امیرالمومنین کا نام آخر پہ کیا بتایا گیا۔صرف فرق یہ ہے کہ قرآن نے تو گدھا کہا تھا انہوں نے گدھے کے لفظ کو بدل کے کتے میں تبدیل کر دیا لیکن اپنا سر دار انہی کو بنایا جن کو دوسرے دن خود کتا کہا اور کتے کہہ کہہ کر گلے سے اتارا۔عجیب قوم ہے اور یہ مولوی ہے یہ سب ملاں کی تحریکات ہیں۔اب ایسے مولویوں کے سپرد اگر آپ اپنی گردنیں کر دیں گے اور کر چکے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہیں تو اس قوم کا کیا انجام ہوگا میں آپ کو وہ انجام دکھانا چاہتا ہوں۔وہ وقت گزرچکے ہیں جب آپ اپنے قدم واپس کر سکتے تھے یہ بالکل خیال دل سے مٹادیں کہ احمدیت نعوذ باللہ من ذالک آپ سے مرعوب ہو کر آپ کے خوف میں