خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 515
خطبات طاہر جلد 13 515 خطبہ جمعہ فرمودہ 15/ جولائی 1994ء بحث نہیں تھی کہ کسی جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ناموس کی حفاظت ہے یا نہیں ہے۔یہ الگ مضمون ہے جس کو میں آپ کے سامنے پیش کروں گا کہ سب سے زیادہ ناموس رسول کی محافظ اور علمبر دار تمام دنیا میں جماعت احمدیہ ہے اور میں دلائل سے ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ جماعت تو ناموس نہیں کرتی ہم ناموس کے علمبردار ہیں۔ان کے اپنے عقید سے کھلم کھلا ان کو جھٹلا رہے ہیں لیکن یہ بعد کے حصے سے تعلق رکھنے والی بات ہے۔پہلی بات تو آپ کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ محض سیاست ہے اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں اور دین کو ایک بہانہ بنایا گیا ہے اور دین کو اس رنگ میں بہانہ بنایا گیا ہے کہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو دین کی ادنیٰ بھی عقل نہیں ہے، ایک ذرہ بھی شناسائی نہیں ہے۔ان کے حساب سے تو بالکل وہی حال ہے جیسے گدھے نے کتابیں اٹھائے رکھی ہوں، جس کو پتا ہی نہ ہو کہ کتابوں میں ہے کیا۔پس اور باتیں تو چھوڑیئے یہی ناموس رسول کے حوالے سے میں آپ پر ثابت کروں گا اور باقاعدہ دلائل کے ساتھ ، قرآنی حوالوں سے احادیث اور سنت کے حوالوں سے کہ ان مولویوں کے مسلک میں ایک ادنیٰ بھی حقیقت اور سچائی نہیں۔محض جھوٹے بہانے ہیں اور ناموس رسول کو اگر خطرہ ہے تو ان لوگوں سے ہے اور خطرہ ہو چکا ہے ماضی میں تو ان لوگوں سے وہ لاحق ہوا ہے ورنہ اور کوئی خطرہ نہیں۔قرآن کی تعلیم کیا ہے؟۔اس کی تفصیل پر آپ غور کریں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ قرآن کی باتوں کا ان باتوں سے جو آج پاکستان میں زیر بحث آچکی ہیں کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔لیکن افسوس ہے کہ سیاستدان اپنی ہوشیاریوں اور چالا کیوں کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ مولویوں کو ان کے مذہبی تقاضے منظور کر کے وہ زیرنگیں کر سکتا ہے اور بعض صورتوں میں وقتی طور پر فائدے اٹھانے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔مگر یہ خیال کہ یہ کامیابی دائگی اور مستقل ہے یہ بالکل ہے۔جھوٹ ہے۔آج چند دن کے لئے ٹھنڈ پڑتی ہے کل وہ ٹھنڈ پھر ایک جہنم میں تبدیل ہو جاتی۔اب بھٹو صاحب نے جب جماعت احمدیہ کو با قاعدہ اسمبلی کو ایک خاص طریق پر منتظم کر کے جماعت احمدیہ کے خلاف غیر مسلم ہونے کا اعلان کروایا تو اس سے پہلے جو اخبارات میں خبریں آ رہی تھی وہ بالکل کھلی کھلی اور واضح تھیں۔جو اس کے بعد خبر میں آئیں وہ بھی بڑی کھلی کھلی اور واضح ہیں اور تاریخ پاکستان کا ایک انمٹ حصہ بن چکی ہیں۔علماء یہ اعلان کر رہے تھے کہ بھٹو صاحب آپ ہماری