خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 517 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 517

خطبات طاہر جلد 13 517 خطبہ جمعہ فرمودہ 15/ جولائی 1994ء منتیں کر رہی ہے کہ یہ قدم اٹھاؤ۔آپ کو بتا رہی ہے کہ جو قدم بھی اٹھائے جانے چاہئیں وہ آپ نہیں اٹھا سکتے۔آپ میں وہ دلیر دل رکھنے والے وہ تقوی شعار اور سچائی پر قائم رہنے والے باشعور لوگ باقی نہیں رہے جو اصولوں کی خاطر بڑی سے بڑی مخالفتوں کے سامنے اپنی چھاتیاں پیش کر دیتے ہیں۔اس لئے قوم کے اخلاق کا جب دیوالیہ پٹ چکا ہو، جب عقلیں ان کے سپرد کر دی جائیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے گدھوں پر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے، تو پھر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عقل کی بات کو سنیں گے اور اپنے اندر کوئی پاک تبدیلی پیدا کریں گے یہ خود ایک بے عقلی کی بات ہے۔تو پھر کیوں ایسا کیا جاتا ہے۔مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ محض اپنے رب کے حضور اپنی معذرت کے طور پر کہ اے اللہ ہم پر کوئی عذر نہیں۔ہم کو پیغام پہنچانے کے لئے مقرر فرمایا گیا تھا ہم اس پیغام کا حق ادا کر چکے ہیں اس ابلاغ کا حق ادا کر چکے ہیں آگے اس قوم کا مقدر ہے، یہ بات مانے یا نہ مانے مگر ہم آخر وقت تک آخری سانس تک اس پیغام کو پوری تفصیل کے ساتھ اس قوم کے سامنے کھول کھول کر رکھتے رہے ہیں۔یہ معذرت جو قرآن سے ثابت ہے، جو سنت سے ثابت ہے، جو صحابہ کے کردار سے ثابت ہے کہ مرتے مرتے بعض ایسے پیغام شہادت کے وقت آخری سانسوں میں دیئے اور ساتھ یہ کہا کہ ہم بطور معذرت کے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اللہ کے حضور بری الذمہ ہو کے حاضر ہوں کہ ہم نے اپنے پیغام کی ذمہ داری کو ادا کر دیا تھا۔پس اس کے سوا اس کی اور کوئی غرض نہیں۔ورنہ بارہا پہلے بھی ہو چکا ہے کہ جب کوئی سیاسی تبدیلی رونما ہوئی تو بھولے احمدیوں نے مجھے لکھنا شروع کیا کہ الحمد للہ کہ صبح آگئی۔مجھے یاد ہے کہ ایسے موقع پر میں نے ایک عرب شاعر کا یہ شعر پڑھا تھا۔يَا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ اَلَا أَنْجِلِي بِصُبْحٍ وَمَا الْإِصْبَاحُ مِنْكِ بِأَمْثَلِ کہ اے طویل اندھیری رات خدا کے لئے روشن ہو جا ایک صبح کی صورت میں۔لیکن یہ کہنے کے بعد کہتا ہے بصُبْحِ وَمَا الْإِصْبَاحُ مِنْكِ بِأَمْثَلِ لیکن صبح بھی جو آئے گی وہ تجھ سے روشن تر تو نہیں ہو سکتی۔وہ تو ایک اندھیری رات کے بعد ایک اندھیری صبح کی باتیں ہو رہی ہیں۔تو میں نے تمام جماعت پر خطبے میں یہ بات کھول کر اسی شعر کے حوالے سے بیان کی تھی کہ تم جن کو طلوع فجر سمجھ