خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 438
خطبات طاہر جلد 13 438 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 / جون 1994ء اٹھائے ہوئے، بجائے گھر والوں کے پاس بیٹھنے کے، وہ گرمیاں ہوں، سردیاں ہوں، بازاروں گلیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔آپ کہاں جا رہے ہیں؟ جی فلاں چندے کی تحریک کرنے جارہا ہوں۔یہ جو جماعت کے چندے زندہ ہیں جن کی وجہ سے جماعت کے کاموں میں زندگی پڑ رہی ہے یہ انہی مخلصین کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔پس ان کو دعائیں بھی دیں، ان کے لئے دل میں پیار محسوس کریں۔اگر پیار محسوس نہیں کرتے تو اللہ کی محبت آپ پر واجب نہیں ہوگی۔کیونکہ اللہ فرماتا ہے کہ جو میری خاطر آپس میں محبت کے رشتے باندھتے ہیں ان پر میری محبت واجب ہوتی ہے اور اللہ کی خاطر ویسے کیسے محبت ہو سکتی ہے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں غور تو کر کے دیکھیں اللہ کی خاطر ویسے کیسے آپ کو محبت ہو جائے گی جب تک اللہ کے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ محبت نہ ہو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی کسی کو دنیاوی محبت ہو گئی اور اس حدیث کا بہانہ لے لیتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کو اطلاع کرو جس سے تمہیں محبت ہو گئی ہے۔(مشکوۃ المصابیح باب الحب فی اللہ ومن اللہ )۔حالانکہ آپ للہی محبت کی بات کر رہے ہیں۔دنیا کے عشق کی باتیں نہیں کر رہے اور اس بہانے لوگ اطلاعیں کرتے ہیں۔ایک دفعہ ایک خط میرے پاس کسی کا کسی کے نام آیا لیکن میری معرفت اور جو لکھنے والے تھے ان کو اتنا یقین تھا کہ وہ صحیح بات کر رہے ہیں کہ انہوں نے میری وساطت سے وہ خط بھجوانے کے لئے درخواست دی کہ آپ پڑھ بھی لیں اور آگے چلا دیں۔وہ ایسا لغو اور بے ہودہ خط تھا اور مجھے حوالہ دیا گیا تھا اس حدیث کا کہ دیکھیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کسی سے محبت کرے اسے بتا دے کہ مجھے تم سے محبت ہے۔اس محبت کا تو وہم و گمان بھی حضور اکرم کے ذہن یا دل سے گزرا نہیں تھا۔جس کی بات تم کر رہے ہو اور آگے آپ چلا دیں۔میں نے ان کو کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آپ بھی آئندہ یہ جہالت نہ کریں نہ خود لکھیں نہ مجھے دیں نہ کسی اور کو دیں۔یہ معین بات میرے ذہن میں آئی تھی تو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ اس سے ادنی درجوں پر ایسی بہت سی مثالیں آپ کو ملیں گی۔کئی لوگوں کے دل میں یہ غلط فہمی ہوتی ہے وہ مراد نہیں ہے۔للہی محبت ہو، پھر جائیں اس کو بتائیں کہ تمہاری ذات سے ہمیں اور کوئی تعلق نہیں تم اللہ کی خدمت کرنے والے ہو اس لئے ہم تم سے محبت کرتے ہیں۔اس طرح جماعت کے رشتے لہی محبت میں اتنے مضبوط اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جائیں گے کہ وہ اجتماعیت جو آج آپ خدا کے فضل سے دیکھ رہے ہیں اس میں مزید