خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد 13 439 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 / جون 1994ء طاقت پیدا ہوگی۔نیا خون دوڑنے لگے گا اور اس کی جماعت کو بہت ضرورت ہے۔پس جہاں جہاں جماعتیں ابھی بھی پھٹی ہوئی ہیں ان کو سوچ لینا چاہئے کہ وہ اپنے ایمان کی تکذیب کر رہی ہیں کوئی نہ کوئی گروہ ان میں لازماً ایسا ہو گا جس کو ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوئی۔اس لئے میں کہتا ہوں، کوئی نہ کوئی، کیونکہ جب دوسرا فریق مناصب سے اتر جاتا ہے اور ان کی مخالفت کرنے والا اوپر آ جاتا ہے تو وہ اس سے وہی سلوک شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ بچے تھے تو منصب سے اترنے کے بعد ان کو بجز اور اطاعت کے وہ نمونے دکھانے چاہئیں جس سے منصب پر فائز لوگ سمجھیں کہ ہم جھوٹے تھے۔ہم حق نہیں رکھتے کہ اس منصب پر آئیں، یہ وہ لوگ ہیں جو حق رکھتے ہیں۔پس لنہی محبت کی پہچان تو روز مرہ عام ہے۔ذراسی آنکھیں کھول کر دیکھیں تو آپ پہچان سکتے ہیں کہ کس حد تک آپ آنحضور کی ہدایت کے مطابق محبت کرتے ہیں۔آخر پر فرمایا اور صلہ رحمی کرنے والوں پر بھی میری محبت واجب ہوگئی۔ایک صلہ رحمی تو وہ ہے جو ماں باپ اور بیٹیوں اور بیٹوں اور ماں باپ کے درمیان یا بھائیوں بہنوں کے درمیان چلتی ہے۔ایک وہ ہے جو کہی محبت صلہ رحمی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہاں جہاں تک میں سمجھا ہوں یہی مراد ہے کہ جب وہ محبت بڑھ کر ایسی ہو جاتی ہے جیسے خونی رشتے ہوں تو پھر ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جو مومن کا معراج ہے۔اس مضمون کو ان آیات سے تقویت ملتی ہے جن میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہیں اللہ اور رسول کی محبت اپنے ماں باپ ، اپنے اقرباء، اپنے سب دوسرے عزیزوں سے بڑھ کر نہیں ہے تو تمہیں نہیں پتا کہ ایمان کیا ہوتا ہے۔پس صلہ رحمی سے یہی مراد ہے کہ ایسے مقام پر پہنچ جاؤ جب رشتے خونی رشتوں کا رنگ اختیار کر جائیں اور اس روحانی خونی رشتوں میں سب سے بڑا مقام محمد رسول اللہ کا ہے۔پس ظاہر بات ہے کہ جہاں سے وہ صلہ رحمی پھوٹتی ہے۔جو مرکز ہے صلہ رحمی کا وہاں سب سے زیادہ محبت ہو۔اسی مضمون پر اور بھی بہت سی احادیث ہیں جن میں سے چند میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آدمی کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت کرے۔(سنن الترمذی کتاب المناقب) اس حدیث میں اور پہلی حدیث میں صرف الفاظ کا فرق نہیں،