خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد 13 433 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 /جون 1994ء مرکوز ہو کر پھر وہاں سے منتشر ہوتی ہے اور شعاعوں کی طرح پھوٹتی ہے۔وہ تعلق بیچ میں نہ ہو تو آر سب منتشر ہو جائیں گے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آج تصور اپنے میں سے نکال دیں تو آپ میں سے کسی کو ایک دوسرے کی پرواہ نہیں رہے گی اور اس تعلق کو خلافت آگے بڑھا رہی ہے اور وہ تعلق پھر خلافت کی ذات میں مرکوز ہوتا ہے اور پھر آگے چلتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آیت استخلاف کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے۔فرمایا وہ جاہل ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ نبوت کی برکتیں نبی کی زندگی تک محدود ہو جاتی ہیں ان برکتوں کو آگے چلانے کے لئے آیت استخلاف کا وعدہ ہے اور خلافت کے ذریعہ وہ برکتیں آگے بڑھائی جاتی ہیں۔پس یہ بھی امر واقعہ ہے کہ جیسی محبت خلیفہ کو جماعت سے ہوتی ہے یا جماعت کو خلیفہ سے ہوتی ہے اس کی کوئی مثال دنیوی تعلقات میں کہیں دکھائی نہیں دیتی اور یہی محبت ہے جو پھر آپس میں انتشار کرتی ہے۔جس طرح ایک مرکز پر لیزر کی شعاعیں اکٹھی ہوں اور پھر منتشر ہو کر اردگرد پھیلیں، وہی کیفیت ہے۔یہ محبت جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی آپ کے آپس میں لڑہی تعلقات بڑھیں گے۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جو میں ساری اپنی زندگی کی تاریخ اور تجربوں پر نگاہ ڈال کر بیان کر رہا ہوں۔میں نے دیکھا ہے جن کو خلیفہ وقت سے زیادہ محبت ہوتی ہے وہی آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔جن کے دل میں بغض اور دُوریاں ہوتی ہیں وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے بغض کرتے ہیں اور دُور ہو جاتے ہیں۔پس اگر آپ نے اس نعمت کو پکڑے رہنا ہے تو وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا الله کی رسی پر اجتماعیت کے ساتھ مضبوطی سے ہاتھ ڈال دیں اور ایسا ہاتھ ڈالیں کہ لَا انْفِصَامَ لَهَا وہ مضمون بھی صادق آئے کہ پھر اس ہاتھ کا چھٹنا ممکن نہ رہے۔اگر ایسا ہو تو آپ کی آپس کی محبت کی ہمیشہ کے لئے ضمانت ہے، کوئی دنیا کی طاقت آپ کو پارہ پارہ نہیں کر سکتی ، کوئی دنیا کی طاقت آپ کے دلوں کو پھاڑ نہیں سکتی اور یہ سارے وہ مضمون ہیں جو قرآن کی وحی کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کی ذات میں ظاہر ہوئے ، آپ کی ذات میں جلوہ گر ہوئے ، آپ کی زبان سے ہم نے ان کو سنا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وساطت سے اس زمانہ میں ہم نے ان کے اندر ایک زندگی پائی۔وہ زندگی جو ہمیشہ سے تھی مگر لوگ مردہ تھے جن پر وہ اثر نہیں کر رہی تھی مسیح موعود