خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 432
خطبات طاہر جلد 13 432 خطبه جمعه فرموده 10 / جون 1994ء ہے۔پس آج کی دنیا میں حقیقت میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات کو عملی نمونہ کے طور پر اگر کسی نے زندہ دیکھنا ہے اور اجاگر ہوتا ہوا دیکھنا ہے تو جماعت احمدیہ کی تخلیق میں دیکھے۔جماعت احمد یہ جن خطوط پر آگے بڑھ رہی ہے یہ وہی نمونے ہیں جن کو پیدا کرتی ہوئی اور مزید بڑھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔پس جیسا کہ میں پہلے بھی اس مضمون کو نئے آنے والوں کے تعلق سے بیان کر چکا ہوں۔آج پھر آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ جو خدا نے آپ کو نعمت عطا فرمائی ہے اور آپ کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کیسے عطا ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وسیلے سے دوبارہ عطا ہوئی ہے۔اس وسیلے کو نکال دیں تو باقی امت محمدیہ بھی تو وہی موجود ہے جس میں قرآن بھی موجود ہے اور حدیث بھی موجود ہے ان کو کیوں یہ محبت نصیب نہیں۔کس طرح ان کے دل ایک دوسرے سے کٹے ہوئے اور بٹے ہوئے ہیں۔پس اس نصیحت کو یا درکھیں کہ اللہ نے دوبارہ یہ نعمت اپنے فضل سے عطا کی ہے اور نعمت کے سوا دل نہیں باندھے جا سکتے۔پہلے بھی میں نے ایک آیت کریمہ کے حوالے سے سمجھایا تھا کہ اگر چہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو فرمایا ہے کہ تو نے دل نہیں باندھے میں نے باندھے ہیں۔تجھ میں طاقت نہیں تھی کہ ان ایک دوسرے کے دشمنوں اور جان کے دشمنوں کو بھائیوں کے رشتے میں آپس میں باندھ دو، ایک جان بنا دو۔اللہ کو طاقت تھی ، اللہ نے باندھا ہے لیکن کیسے؟ بِنِعْمَتِ اللہ کی نعمت سے اخوان بنے ہیں اور نعمت کا مضمون قرآن سے ثابت ہے۔اول طور پر نبوت پر اطلاق پاتا ہے۔پس فرمایا کہ تیری نبوت جو تجھے خدا نے رحمت کے طور پر عطا کی ہے وہ بھی تو تو گھر سے نہیں لے کے آیا تھا۔وہ نبوت بھی تو ہم نے عطا کی تھی۔اس نبوت میں طاقت نہیں مگر اللہ نے جس مقام پر تجھے فائز فرمایا ہے اس مقام کو اس منصب کو کچھ طاقتیں عطا کی ہیں انہی کی برکت ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے یہ سب ایک دوسرے سے تعلق باندھے جارہے ہیں۔اس بات کا قطعی ثبوت کہ یہ تفسیر درست ہے یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بیچ سے نکال لیں۔آپ کی محبت کو ہٹا دیں تو وہی قرآن ہے وہ کبھی وہ محبت پیدا نہیں کر سکتا۔آنحضرت ﷺ جب اپنے رفیق اعلیٰ کے حضور جانے کے لئے رخصت ہوئے تو کیا واقعہ گزرا۔کس طرح پھر آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں اور پھر وہ تفرقے بڑھتے بڑھتے آج اس حال پہ مسلمان پہنچ چکے ہیں کہ نا قابل بیان ہے۔تو نعمت سے اول مراد رسول کی ذات ہے۔خدا کا نبی ہے اور باہمی محبت اس کے مرکز میں پہلے